Meaning of

خطا

KHataa • ख़ता

غلطی; خطا; قصور

mistake; error; fault

गलती; त्रुटि; दोष

Arabic

حقیقت کیوں لگ روٹھتا ہے وہ ہے وہ نے بھی تو غلطیاں کی تھی
بے حد خیال رکھا تھا بے حد وفا کی تھی

30

Download Image

تیری غلطیاں نہیں جو تو نبھائیے ہے وہ ہے وہ آ گیا تو
پیسے کا زوم تھا تری لہجے ہے وہ ہے وہ آ گیا تو

سکہ زوم کے تری پا
سے کیا بچا
تیرا غرور تو مری کانسے ہے وہ ہے وہ آ گیا تو

79

Download Image

ہے وہ ہے وہ چیختا رہا کچھ اور بھی ہے میرا علاج
م
گر یہ لوگ تمہارا ہی نام لیتے رہے

50

Download Image

یہ تو کہیے ا
سے غلطیاں کی کیا سزا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں آپ پر مرتا ہوں ہے وہ ہے وہ

49

Download Image

پھول کی آنکھ ہے وہ ہے وہ شبنم کیوں ہے
سب ہماری ہی غلطیاں ہوں چنو

45

Download Image

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا
آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا

تو چھوڑ رہا ہے تو غلطیاں ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری کیا
ہر بے وجہ میرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا

43

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تک رہ گیا تو قصہ ہمارا
کسی نے خط نہیں کھولا ہمارا

سندلی اور اتنی سی غلطیاں پر
سزا سے کام چل جاتا ہمارا

36

Download Image

ا
سے دور منصفی ہے وہ ہے وہ ضروری نہیں مسئلہ
ج
سے بے وجہ کی غلطیاں ہوں اسی کو سزا ملے

33

Download Image

تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں
سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں

31

Download Image

بے خو
گرا ہے وہ ہے وہ لے لیا بوسہ غلطیاں کیجے معاف
یہ دل بیتاب کی ساری غلطیاں تھی ہے وہ ہے وہ لگ تھا

30

Download Image

حقیقت کیوں لگ روٹھتا ہے وہ ہے وہ نے بھی تو غلطیاں کی تھی
بے حد خیال رکھا تھا بے حد وفا کی تھی

30

Download Image

تیری غلطیاں نہیں جو تو نبھائیے ہے وہ ہے وہ آ گیا تو
پیسے کا زوم تھا تری لہجے ہے وہ ہے وہ آ گیا تو

سکہ زوم کے تری پا
سے کیا بچا
تیرا غرور تو مری کانسے ہے وہ ہے وہ آ گیا تو

79

Download Image

خطا اپنے اصل معنی میں غلطی یا قصور کی نشاندہی کرتا ہے، جو صحیح سے غیر ارادی انحراف ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ انسانی ناکامیوں کا بوجھ اٹھائے ہوتا ہے، جہاں ارادے اور عمل کے درمیان کی نزاکت کو تلاش کیا جاتا ہے۔

شعراء 'خطا' کا استعمال انسانی اعمال کی نزاکت کو بیان کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اکثر توبہ، معافی اور زندگی کی اخلاقی پیچیدگیوں کے موضوعات میں نظر آتا ہے۔

خطا ہمیں ہماری مشترکہ انسانی خامیوں کی یاد دلاتا ہے، اور ہمارے منتخب کردہ راستوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔