Meaning of

شعلہ

Sho'ala • शोअ'ला

شعلہ; آگ; جذبہ

flame; blaze; passion

ज्वाला; आग; जुनून

Arabic

لگ ڈالو پاؤں ہے وہ ہے وہ شعلہ رو اسے جاناں آگے بڑھنے دو
یہی لڑکی تمہیں پہچان دنیا ہے وہ ہے وہ دلائےگی

0

Download Image

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا ک
ہاں سے اٹھتا ہے

گور ک
سے دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

26

Download Image

ا
سے نے اچھا ہی کیا حال لگ پوچھا دل کا
بھڑک اٹھتا تو یہ شعلہ لگ دبایا جاتا

12

Download Image

جلوہ نور ہے یہ دونوں آنکھیں ا
سے کی
اس کا کا کو جلتا سا شعلہ جو بنا رکھا ہے

10

Download Image

ب
سے انہی دونوں کے قصے آجکل ہیں شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اک مری پیاسی نظر اور اک ترا شعلہ بدن

7

Download Image

ہے وہ ہے وہ اک چنگاری ہوں تو مجھ کو اتنا بھی لگ چھیڑا کر
جو شعلہ بن گیا تو گر تو زما
لگ راکھ کر دوں گا

6

Download Image

جب یہ شعلہ دروں پھٹتا ہے
آب و زیست پھروں کیوں شرر نہیں ہوتی

2

Download Image

ہم کو بھی تو گاؤں کی شام بلاتی ہے
لیکن روزی کی شعلہ رو کیسے کھولے

0

Download Image

لگ ڈالو پاؤں ہے وہ ہے وہ شعلہ رو اسے جاناں آگے بڑھنے دو
یہی لڑکی تمہیں پہچان دنیا ہے وہ ہے وہ دلائےگی

0

Download Image

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا ک
ہاں سے اٹھتا ہے

گور ک
سے دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

26

Download Image

شعلہ کا لفظ ایک زندہ شعلے کی تصویر پیش کرتا ہے، جو زندگی اور توانائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر دل اور روح کو جلانے والے شدید جذبات یا شدید خواہشات کی علامت ہوتا ہے۔ شعلے کی تصویر تباہ کن اور روشن دونوں ہوتی ہے، جو محبت اور خواہش کی دوہری فطرت کو ظاہر کرتی ہے۔

شعراء 'شعلہ' کا استعمال محبت یا غصے کی شدت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خواہش کی بھسم کرنے والی فطرت یا کسی انکشاف کی روشن سچائی کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ یہ لفظ سکون اور استحکام کے برعکس ہوتا ہے، اکثر انسانی جذبات کی ہلچل کو اجاگر کرتا ہے۔

شعلوں کے رقص میں، شعراء جوش و جذبے اور انکشاف کا جوہر پاتے ہیں۔ 'شعلہ' دل کی آتشیں گہرائیوں کی ایک لازوال علامت بنی رہتی ہے۔