Meaning of

آغاز

aaghaaz • आग़ाज़

آغاز; شروعات

beginning; commencement

आरंभ; शुरुआत

Persian

آغاز چاہت ب
سے خود سے ہوں جانا ہے
مقصد تک لے جانا دل کا افسا
لگ ہے

3

Download Image

دل جس کا محبت ہے وہ ہے وہ گرفتار رہا ہے
حقیقت مری مدد کے لیے تیار رہا ہے

آغاز محبت کا فسا
لگ بھی تھا جوابوں
بربا
گرا کا قصہ بھی مزیدار رہا ہے

29

Download Image

انجام ا
سے کے ہاتھ ہے آغاز کر کے دیکھ
بھیگے ہوئے پروں سے ہی پرواز کر کے دیکھ

28

Download Image

حقیقت کبھی آغاز کر سکتے نہیں
خوف لگتا ہے جنہیں انجام سے

22

Download Image

مجھے اب عمر نے چھوڑا ک
ہاں لا کر
مجھے آغاز پھروں سے آج کرنا ہے

8

Download Image

ہوتا نہیں آغاز نئے سال کا سچمچ
گر جنوری تجھ سے یہ دسمبر نہیں ملتا

6

Download Image

کسی سے پوچھنا جاناں بھی یہ آغاز سفر میرا
مری ہی ساتھ ہے وہ ہے وہ نکلا تھا رو رو کر کے گھر میرا

5

Download Image

ہاں جسم کی ہوں
سے کا آغاز کرتے ہیں حقیقت
اپنی ہی روایت پہ ناز کرتے ہیں حقیقت

4

Download Image

ایسی دستک دی ساون نے سا
گر نے دروازے کھولے
تو آغاز دریا کون سا جھرنا تجھ سے اونچا بولے

یقین مانو میرا اک ایسی لڑکی سے ہے وہ ہے وہ ہوں مخاطب
جب بھی بات کرے حقیقت تو لگتا ہے پھول ہے وہ ہے وہ خوشبو گھروندے

4

Download Image

محبت کا مری آغاز ایسا ہے
محبت کا مری انجام کیا ہوگا

3

Download Image

آغاز چاہت ب
سے خود سے ہوں جانا ہے
مقصد تک لے جانا دل کا افسا
لگ ہے

3

Download Image

دل جس کا محبت ہے وہ ہے وہ گرفتار رہا ہے
حقیقت مری مدد کے لیے تیار رہا ہے

آغاز محبت کا فسا
لگ بھی تھا جوابوں
بربا
گرا کا قصہ بھی مزیدار رہا ہے

29

Download Image

آغاز ایک نئی سفر کی شروعات کا مظہر ہے، وہ ابتدائی قدم جو آنے والے وقت کی امید کو تھامے ہوئے ہے۔ شاعری میں، یہ امید اور امکانات سے بھرپور ہوتا ہے، ماضی اور مستقبل کے درمیان کی حد کو نشان زد کرتا ہے۔

شعراء آغاز کا استعمال نئی شروعات کے جوہر کو پکڑنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ صبح کی تازگی، ان دیکھے راستوں کی جوش و خروش، اور تبدیلی کو اپنانے کے حوصلے کی علامت ہے۔ یہ لفظ اختتام کے برعکس ہے، تجدید کو اجاگر کرتا ہے۔

آغاز انسانی روح کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ یہ نئے سرے سے شروع کرنے کے حوصلے کا جشن مناتا ہے۔