Meaning of

افزا

afzaa • अफ़ज़ा

اضافہ; بڑھوتری; پھلنا پھولنا

enhancing; increasing; flourishing

वृद्धि; बढ़ोतरी; फलना-फूलना

Persian

دل نا دل پامال پہ یہ رات ستم افزا تھی
یاد آئی تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ ستارے تم چمکے

0

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

خود ہی اپنی حوصلہ افزائی کی
اتنی عادت پڑ گئی تنہائی کی

شانے پہ سر رکھ کے روئی ک
سے کے جاناں
کون تھا ج
سے نے مری بھر
پائی کی

2

Download Image

دل نا دل پامال پہ یہ رات ستم افزا تھی
یاد آئی تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ ستارے تم چمکے

0

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

افزا بڑھوتری اور اضافے کا احساس دلاتا ہے، اکثر شاعری میں جذبات کی بڑھوتری یا محبت اور ہمدردی کے لئے دل کی صلاحیت کے پھیلاؤ کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

شاعر اس کا استعمال محبت یا حکمت میں بڑھوتری کے خیال کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ جمود کے برعکس ہوتا ہے، زندگی اور حیات کا استعارہ ہوتا ہے۔

افزا بڑھوتری کی روح کو سمیٹے ہوئے ہے، زندگی کی مسلسل پھیلتی ہوئی صلاحیت کی شاعرانہ یاد دلاتا ہے۔