Meaning of

احبا

ahibba • अहिब्बा

محبوب دوست; عزیز

beloved friends; dear ones

प्रिय मित्र; प्रियजन

Arabic

ہے فرض رشتہ داروں اور احباب پر شجر
مر جاؤں ہے وہ ہے وہ تو سوگ ہے وہ ہے وہ گریہ کناں رہیں

1

Download Image

چنو پتوار سفینے کے لیے ہوتے ہیں
دوست احباب تو جینے کے لیے ہوتے ہیں
عشق ہے وہ ہے وہ کوئی تماشا نہیں کرنا ہوتا
اشک چنو بھی ہوں پینے کے لیے ہوتے ہیں

35

Download Image

ضبط سے چور ہوں گیا تو ہوگا
غم سے معمور ہوں گیا تو ہوگا

بزم احباب چھوڑنے والا
کتنا مجبور ہوں گیا تو ہوگا

20

Download Image

جھک کے ملنا مری عادت نہیں مجبوری ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے احباب کے احسان اٹھائے ہوئے ہیں

13

Download Image

احباب میرا کتنا زیادہ بدل گیا تو
تو پوچھتا ہے مجھ سے بھلا کیا بدل گیا تو

اب تو پیشقدمی کرتا ہے حقیقت بات بات پر
اب ا
سے کے بات چیت کا لہجہ بدل گیا تو

قربت ہے وہ ہے وہ ا
سے کے اچھے سے اچھے بدل گئے
جو ہے وہ ہے وہ بھی ا
سے کے پا
سے جا بیٹھا بدل گیا تو

پہلے تو ساتھ رہنے کی حامی بے حد بھری
پھروں ایک روز ا
سے کا ارادہ بدل گیا تو

لیلیٰ بدل گئی تو گئی ساتھ ساتھ ہی
مجنوں بدل گیا تو یہ زما
لگ بدل گیا تو

تصویر عرصے بعد بدلتی ہے دل پامال رکھ
ایسا نہیں لگ ہوتا کہ سوچا بدل گیا تو

6

Download Image

عدو کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تو پھول دیکھے ہیں م
گر یہ کیا
مری احباب کے ہے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہتھیار جانے کیوں

3

Download Image

کیا ہوئیں حقیقت رنگیں احباب کو کیا ہوں گیا تو
آتے جاتے مل گئیں آنکھیں تو ملنا ہوں گیا تو

3

Download Image

ی
ہاں انسان کو انسان بننے کی ضرورت ہے
تو پھروں کیوں لوگ کرتے ہیں ہمیشہ خون کی باتیں

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دو گج وقار کیوں مانگتا احباب سے اپنے
اسے اچھی لگی ہوتیں ا
گر رنگون کی باتیں

2

Download Image

حقیقت جو تھی حقیقت تھی یا پھروں خواب تھا کیا تھا
ج
سے کے لیے ہے وہ ہے وہ رویا حقیقت احباب تھا کیا تھا

2

Download Image

مری احباب تو دو سو ہیں لیکن
بے حد جو خاص ہیں حقیقت سواریں ہیں

2

Download Image

ہے فرض رشتہ داروں اور احباب پر شجر
مر جاؤں ہے وہ ہے وہ تو سوگ ہے وہ ہے وہ گریہ کناں رہیں

1

Download Image

چنو پتوار سفینے کے لیے ہوتے ہیں
دوست احباب تو جینے کے لیے ہوتے ہیں
عشق ہے وہ ہے وہ کوئی تماشا نہیں کرنا ہوتا
اشک چنو بھی ہوں پینے کے لیے ہوتے ہیں

35

Download Image

اپنی اصل معنوں میں 'احبا' ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو دل کے قریب ہوتے ہیں۔ شاعری نے اس کو صرف جسمانی موجودگی تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان جذباتی رشتوں کو بھی شامل کیا جو وقت اور فاصلے کو پار کر جاتے ہیں۔

شاعر اکثر 'احبا' کا استعمال کھوئی ہوئی دوستیوں کے لیے نوستالجیا پیدا کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دوبارہ ملنے کی خواہش یا مشترکہ یادوں کی گرمی کا بھی اشارہ دے سکتا ہے۔

شاعری میں، 'احبا' دل کے گہرے تعلقات کا ذریعہ بن جاتا ہے، جو صرف دوستوں کی موجودگی سے آگے بڑھتا ہے۔