Meaning of

عیب

aib • ऐब

نقص; خامی; کمی

flaw; defect; imperfection

दोष; खामी; कमी

Arabic

ہنر سمجھو یا کوئی عیب سمجھو اس کا کو کے جاں ہم
ہوں چاہیں خاک حاصل پھروں بھی پر امید رہتے ہیں

6

Download Image

کیول ا
سے کا ہاتھ مری بربا
گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اور تو کوئی عیب نہیں شہزا
گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

پیار بے حد کرتا تھا ا
سے سے ہے وہ ہے وہ لیکن
پیار نہیں دیکھا جاتا ہے شا
گرا ہے وہ ہے وہ

36

Download Image

پا اے امید بچیں رکھے ہوئے سر ہیں ہم لوگ
ہیں لگ ہونے کے برابر ہی م
گر ہیں ہم لوگ

تو نے برتا ہی نہیں ٹھیک سے ہم کو اے دوست
عیب لگتے ہیں بظاہر بچیں ہنر ہیں ہم لوگ

26

Download Image

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال ہے وہ ہے وہ ہے وہ
تاکتے سریر خامہ نوا سروش ہے

24

Download Image

لگ تھی حال کی جب ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے چشم نوازشات
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ ہے وہ ہے وہ کوئی برا لگ رہا

22

Download Image

مجھے پتا ہے محبت ہے وہ ہے وہ کیا سے کیا ہوگا
جسے جاناں اپنا سمجھتے ہوں بے وفا ہوگا

جو تیرے عشق ہے وہ ہے وہ ب
سے عیب ہی تلاش کرے
حقیقت بے وجہ یار بھلا خاک ہمنوا ہوگا

13

Download Image

اپنے دور کی سب سے ٹیڑھی لڑکی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
حقیقت ا
سے دور کا سب سے سیدھا لڑکا ہے

ایک ہی عیب ہے ا
سے ہے وہ ہے وہ سگریٹ پیتا ہے
باقی سرپا اکدم اعلیٰ لڑکا ہے

13

Download Image

फ़ुर्सत नहीं मुझे कि करूँँ इश्क़ फिर से अब
माज़ी की चोटों से अभी उभरा नहीं हूँ मैं

डर है कहीं ये ऐब उसे रुस्वा कर न दे
सो ग़म में भी शराब को छूता नहीं हूँ मैं

10

Download Image

مسکرانے لگا ہوں تمہارے لیے
گھر سجانے لگا ہوں تمہارے لیے

عیب اپنے تو سارے مٹا کر کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
گیت گانے لگا ہوں تمہارے لیے

7

Download Image

کسی کا عیب مت کھولو جاناں اپنے آپ کو دیکھو
برا پاپی نہیں ہوتا جاناں ا
سے کے پاپ کو دیکھو

ا
گر بننا ہے جاناں کو ایک بہتر آدمی تو پھروں
فنکاروں کو مت دیکھو جاناں اپنے باپ کو دیکھو

6

Download Image

ہنر سمجھو یا کوئی عیب سمجھو اس کا کو کے جاں ہم
ہوں چاہیں خاک حاصل پھروں بھی پر امید رہتے ہیں

6

Download Image

کیول ا
سے کا ہاتھ مری بربا
گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اور تو کوئی عیب نہیں شہزا
گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

پیار بے حد کرتا تھا ا
سے سے ہے وہ ہے وہ لیکن
پیار نہیں دیکھا جاتا ہے شا
گرا ہے وہ ہے وہ

36

Download Image

عیب کا لفظ نامکملیت کا احساس رکھتا ہے، ایک ایسا داغ جو کسی مکمل چیز کی سطح کو بگاڑ دیتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر انسانی حالت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں خامیاں صرف جسمانی نہیں ہوتیں، بلکہ گہری جذباتی ہوتی ہیں، جو وجود کی نازکی اور ناپائیداری کو ظاہر کرتی ہیں۔

شاعر اکثر 'عیب' کا استعمال اندرونی کشمکش اور خود آگاہی کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ روح کے چھپے ہوئے زخموں کی علامت ہو سکتا ہے، وہ نادیدہ جدوجہد جو انسانی تجربے کی تعریف کرتی ہیں۔ یہ لفظ کمال کے نظریات کے برعکس ہے، نامکملیت میں پائی جانے والی خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'عیب' روح کی چھپی گہرائیوں کو منعکس کرنے والا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نامکملیت کوئی نقص نہیں، بلکہ ہماری مشترکہ انسانیت کا ایک پہلو ہے۔