Meaning of

عیب دار

aibdaar • ऐबदार

عیب دار; نقص دار

flawed; blemished

दोषपूर्ण; खामीदार

Arabic

دولت کا پردہ آب و زیست کے ایبوں پہ ڈال کر
عزت مآب ہوں گئے سب عیب دار لوگ

0

Download Image

دل خوش گوار بھی ہے ترا بے قرار بھی
کچھ کچھ تو لگ رہا ہے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ چارہ ساز بھی

نینن انہی کے رہتے ہوں گھر ہے وہ ہے وہ گھسے ہوئے
اوپر سے بن رہے ہوں بڑے ناک دار بھی

کرتا ہوں دو شکار ہے وہ ہے وہ تو ایک تیر سے
فن گیتکار بھی ہے میرا حسن کار بھی

جاناں نے نہیں کہا تھا ج
ہاں چھوڑ دے ابھی
اوپر سے کر رہے ہوں میرا انتظار بھی

جاناں لوگ کہ رہے ہوں بھلا آدمی اسے
مجھ کو نظر سے لگ رہا ہے عیب دار بھی

مجھ پر ہی مری جان کا الزام دھر دیا
اوپر سے بولتے ہوں مجھے غم گسار بھی

نینن نمک لگانا غریبوں کے زخم پر
یہ تیرا کام کاج ہے اور روزگار بھی

3

Download Image

دولت نے سارے ایبوں کو پردے ہے وہ ہے وہ ڈھک دیا
سب عیب دار صاحب کردار ہوں گئے

2

Download Image

دولت کا پردہ آب و زیست کے ایبوں پہ ڈال کر
عزت مآب ہوں گئے سب عیب دار لوگ

0

Download Image

دل خوش گوار بھی ہے ترا بے قرار بھی
کچھ کچھ تو لگ رہا ہے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ چارہ ساز بھی

نینن انہی کے رہتے ہوں گھر ہے وہ ہے وہ گھسے ہوئے
اوپر سے بن رہے ہوں بڑے ناک دار بھی

کرتا ہوں دو شکار ہے وہ ہے وہ تو ایک تیر سے
فن گیتکار بھی ہے میرا حسن کار بھی

جاناں نے نہیں کہا تھا ج
ہاں چھوڑ دے ابھی
اوپر سے کر رہے ہوں میرا انتظار بھی

جاناں لوگ کہ رہے ہوں بھلا آدمی اسے
مجھ کو نظر سے لگ رہا ہے عیب دار بھی

مجھ پر ہی مری جان کا الزام دھر دیا
اوپر سے بولتے ہوں مجھے غم گسار بھی

نینن نمک لگانا غریبوں کے زخم پر
یہ تیرا کام کاج ہے اور روزگار بھی

3

Download Image

عیب دار ان خامیوں کی بات کرتا ہے جو اشیاء یا روحوں کو نشان زد کرتی ہیں۔ یہ کردار یا تاریخ کی گہرائی کا اشارہ دیتا ہے، جہاں خامیاں اپنی کہانیاں سناتی ہیں۔

شاعر 'عیب دار' کا استعمال عدم کمال اور انسانیت کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ کمال کے نظریات کے برعکس ہے، خامیوں میں خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔

خامیوں کے آغوش میں، شاعر انسانیت کا جوہر پاتے ہیں۔ عیب دار عدم کمال میں خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔