Meaning of

چھاؤں

aks-o-saaya • अक्स-ओ-साया

عکس; سایہ

reflection; shadow

प्रतिबिंब; छाया

Persian

حقیقت پیڑ ج
سے کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ کٹی تھی عمر گاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ چوم چوم تھک گیا تو م
گر یہ دل بھرا نہیں

18

Download Image

یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں
جو بھی ا
سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو

87

Download Image

حقیقت ج
سے کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ پچی
سے سال گزرے ہیں
حقیقت پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا

74

Download Image

اسی سے جان گیا تو ہے وہ ہے وہ کہ بخت ڈھلنے لگے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھک کے چھاؤں ہے وہ ہے وہ بیٹھا تو پیڑ چلنے لگے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے رہا تھا سہارے تو اک ہجوم ہے وہ ہے وہ تھا
جو گر پڑا تو سبھی راستہ بدلنے لگے

73

Download Image

مری آنگن ہے وہ ہے وہ ایک بوڑھا پیڑ
چھاؤں بھی دیتا ہے دعائیں بھی

52

Download Image

دھوپ بھی آرام کرتی تھی ج
ہاں
اپنا ایسی چھاؤں سے ناتا رہا

44

Download Image

مجھ کو چھاؤں ہے وہ ہے وہ رکھا اور خود بھی حقیقت جلتا رہا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں ہے وہ ہے وہ

44

Download Image

مجھے بھی بخش دے لہجے کی خوش بیانی سب
تری اثر ہے وہ ہے وہ ہیں الفاظ سب معانی سب

مری بدن کو کھلاتی ہے پھول کی مانند
کہ ا
سے نگاہ ہے وہ ہے وہ ہے دھوپ چھاؤں پانی سب

31

Download Image

غربت کی ٹھنڈی چھاؤں ہے وہ ہے وہ یاد آئی ا
سے کی دھوپ
دودمان وطن ہوئی ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ترک وطن کے بعد

27

Download Image

بن گیا تو ہے شہر تو اب گاؤں ان کو چاہیے
کاٹ دیتے ہیں شجر پھروں چھاؤں ان کو چاہیے

آنکھ ہے وہ ہے وہ عزت نہیں ہے لڑ
کیوں کے واسطے
اور پائل کے لیے پھروں پاؤں ان کو چاہیے

20

Download Image

حقیقت پیڑ ج
سے کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ کٹی تھی عمر گاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ چوم چوم تھک گیا تو م
گر یہ دل بھرا نہیں

18

Download Image

یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں
جو بھی ا
سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو

87

Download Image

عکس و سایہ اپنی اصل میں موجودگی اور عدم موجودگی کی دوگانگی کو پکڑتا ہے۔ عکس ایک عارضی تصویر ہے، حقیقت کا ایک لمحاتی گرفت، جبکہ سایہ ایک مستقل ساتھی ہے، سفر کا خاموش گواہ۔ شاعری اس دوگانگی کو اپناتی ہے، روشنی اور تاریکی، حقیقت اور فریب کے درمیان کھیل کا جائزہ لیتی ہے۔

عکس و سایہ کا استعمال شاعر اکثر شناخت اور خود ادراک کے موضوعات میں کرتے ہیں۔ یہ زندگی کی عارضی نوعیت اور موت کے ہمیشہ موجود سایہ کو بیدار کرتا ہے۔ عکس اور سایہ کے درمیان تضاد اندرونی اور بیرونی خود، یا وجود کے دیکھے اور ان دیکھے پہلوؤں کی علامت ہو سکتا ہے۔

روشنی اور سایہ کے رقص میں، 'عکس و سایہ' وجود کی گہری حقیقتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عارضی اور ابدی پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔