Meaning of

عمر

amr • अम्र

زندگی; عمر; ابدیت

life; age; eternity

जीवन; आयु; अनंतता

Arabic

کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک
چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں

75

Download Image

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
لگے گا لگنے لگا ہے م
گر لگے گا نہیں

نہیں لگے گا اسے دیکھ کر م
گر خوش ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوش نہیں ہوں م
گر دیکھ کر لگے گا نہیں

1246

Download Image

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر ہے وہ ہے وہ رہا

600

Download Image

سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی
دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا

553

Download Image

ا
سے
لیے یہ مہی
لگ ہی شامل نہیں عمر کی جنتری ہے وہ ہے وہ ہماری
ا
سے نے اک دن کہا تھا کہ شا
گرا ہے ا
سے فروری ہے وہ ہے وہ ہماری

184

Download Image

ہے وہ ہے وہ زندگی ہے وہ ہے وہ آج پہلی بار گھر نہیں گیا تو
م
گر تمام رات دل سے ماں کا ڈر نہیں گیا تو

ب
سے ایک دکھ جو مری دل سے عمر بھر لگ جائےگا
اس کا کا کو کسی کے ساتھ دیکھ کر ہے وہ ہے وہ مر نہیں گیا تو

173

Download Image

مت پوچھو کتنا غمگین ہوں گنگا جی اور جمنا جی
زیادہ جاناں کو یاد نہیں ہوں گنگا جی اور جمنا جی

امروہے ہے وہ ہے وہ بان ن
گرا کے پا
سے جو لڑکا رہتا تھا
اب حقیقت ک
ہاں ہے ہے وہ ہے وہ تو وہیں ہوں گنگا جی اور جمنا جی

96

Download Image

اک روز کھیل کھیل ہے وہ ہے وہ ہم ا
سے کے ہوں گئے
اور پھروں تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے

87

Download Image

دل کے دروازے بھیڑ کر دیکھو
زخم سارے اُدھیڑ کر دیکھو

بند کمرے ہے وہ ہے وہ آئینے سے کبھی
جاناں میرا ذکر چھیڑ کر دیکھو

85

Download Image

آنکھ ہوں بند تو حقیقت اپنا ہے
آنکھ کھل جائے تو حقیقت سپنا ہے

حقیقت ملے یا نہیں ملے ہم کو
عمر بھر ا
سے کا نام جپنا ہے

77

Download Image

کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک
چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں

75

Download Image

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
لگے گا لگنے لگا ہے م
گر لگے گا نہیں

نہیں لگے گا اسے دیکھ کر م
گر خوش ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوش نہیں ہوں م
گر دیکھ کر لگے گا نہیں

1246

Download Image

عمر کا اصل مطلب زندگی یا عمر ہے۔ شاعری میں یہ لفظ وقت کی عارضیت اور ابدیت کے درمیان توازن کو ظاہر کرتا ہے، جہاں زندگی کی عارضیت اور ابدیت کا گہرا احساس ظاہر ہوتا ہے۔

شاعر 'عمر' کا استعمال موت اور ابدیت کے موضوعات کی تلاش کے لئے کرتے ہیں۔ یہ زندگی کی عارضیت کی یاد دلاتا ہے جبکہ روح کی ابدی نوعیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ لفظ اکثر پرانی یادوں یا لازوالیت کی خواہش کو بیدار کرتا ہے۔

شاعری میں 'عمر' وقت اور ابدیت کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے، جو وجود کی نوعیت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔