Meaning of

بیزار

bejaar • बेजा़र

بیزار; دل شکستہ

weary; disenchanted

थका हुआ; मोहभंग

Persian

بیکار ا
سے کام سے ہے وہ ہے وہ ہوں ہوں چکا
اے یار بیزار کر دو اعلان اب

4

Download Image

سب سے بیزار ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ذہنی بیمار ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کوئی اچھی خبر نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
زبان ذائقہ ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

71

Download Image

کل جوڑ گھٹا کر جو یہ سنسر کا دکھ ہے
اتنا تو مری اک دل بیزار کا دکھ ہے

شاعر ہیں تو دنیا سے ا
پیش تھوڑی ہیں لوگوں
سب کی ہی طرح ہم
پہ بھی گھر بار کا دکھ ہے

52

Download Image

یہ کب کہتی ہوں جاناں مری گلے کا ہار ہوں جاؤ
وہیں سے لوٹ جانا جاناں ج
ہاں بیزار ہوں جاؤ

47

Download Image

ملی جن سے جفائیں ان کو بھی صاحب کردار کرنا تھا
ہر اک پتھر ہوئے دل کو پناہ مہتاب کرنا تھا

ستم کیا ہے کہ خود بیزار بیٹھا ہے حقیقت لڑکا آج
جسے کل غیر کی بستی کو بھی شاداب کرنا تھا

16

Download Image

جاناں سے ملنے کے بعد اے ہمدم
خود سے بیزار ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

11

Download Image

دنیا کی نعمتوں سے ہے بیزار زندگی
اب دیکھتی ہے جینے کے آثار زندگی

7

Download Image

یہ ک
سے نے کہا مجھ سے بیزار نہیں کرتے
حقیقت سامنے آ کر بھی دیدار نہیں کرتے

7

Download Image

کروں تعریف جتنی ہے وہ ہے وہ تری فن پر
مہکتی اتنی خوشبو مری ہی تن پر

بڑا بیزار دکھ ہے یہ محبت بھی
ہمارا دل بھی آیا تو سہاگن پر

5

Download Image

دل بد چلن بیزار جو بد نام ہے
یہ مےکشی سب عشق کا انجام ہے

4

Download Image

بیکار ا
سے کام سے ہے وہ ہے وہ ہوں ہوں چکا
اے یار بیزار کر دو اعلان اب

4

Download Image

سب سے بیزار ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ذہنی بیمار ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کوئی اچھی خبر نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
زبان ذائقہ ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

71

Download Image

بیزار تھکن اور دل شکستگی کے احساس کو پکڑتا ہے، ایک تھکن جو روح میں سما جاتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ایک ایسے دل کی خاموش قبولیت کو ظاہر کرتا ہے جس نے بہت کچھ دیکھا ہے۔

شاعر 'بیزار' کا استعمال تھکن اور دل شکستگی کے موضوعات کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ایک روح کی خاموش مایوسی کو ظاہر کر سکتا ہے جو تسلی کی خواہش رکھتی ہے۔

بیزار ایک تھکے ہوئے دل کی خاموش آہ ہے، جو افراتفری میں آرام کی تلاش میں ہے۔