Meaning of

بزدل

buz-dil • बुज़दिल

بزدل; ڈرپوک

coward; faint-hearted

कायर; डरपोक

Persian

بیٹھا رہتا ساحل پہ پر دریا پار نہیں کرتا
مطلب تو بھی لہروں سے پھروں مجھسا پیار نہیں کرتا

تکتے بیٹھے ساحل پہ ہم کشتی لے طوفانوں کو
پر حقیقت اتنا نچوا ہے کی ہم پر وار نہیں کرتا

5

Download Image

ستارے تم اور قسمت دیکھ کر گھر سے نکلتے ہیں
جو بزدل ہیں مہورت دیکھ کر گھر سے نکلتے ہیں

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ لیکن سفر کی مشکلوں سے ڈر نہیں لگتا
کہ ہم بچوں کی صورت دیکھ کر گھر سے نکلتے ہیں

74

Download Image

جچنے لگا ہے درد مجھے آپ کا دیا
برباد کرنے والے نے ہی آسرا دیا

کل پہلی بار لڑنے کی ہمت نہیں ہوئی
مجھ کو کسی کے پیار نے نچوا بنا دیا

60

Download Image

ساتھ چلنا ہے تو تلوار اٹھا مری طرح
مجھ سے بزدل کی حمایت نہیں ہونے والی

33

Download Image

بے پناہ ہی مر گیا تو ہے حقیقت کسی کی یاد ہے وہ ہے وہ ہے وہ
بزدلوں کو عشق سے کچھ دور ہونا چاہیے

30

Download Image

کبھی بزدل بھی لکھ دیں گے ہاں تیری شان ہے وہ ہے وہ ہیوان لکھ دیں گے
لگ کر سازش ہمارے ملک پر یوں جنگ کا اعلان لکھ دیں گے

بری نظریں ا
گر تو ڈال دےگا ا
سے ترنگے پر تو دشمن سن
اٹھا کر اپنی ہم تلوار تری دل پہ ہندوستان لکھ دیں گے

15

Download Image

ا
سے کی ساری کرنےوالے کو اب باطل ہی ہم بولیں گے
ا
سے کے سارے لنگوروں کو بزدل ہی ہم بولیں گے

ا
سے ظالم کی ا
سے گن
گرا سازش سے بلکل مت ڈرنا
قاتل کو پوری طاقت سے قاتل ہی ہم بولیں گے

14

Download Image

وطن کی رکھ خاطر لڑینگے دھڑ جوانوں کے
ہمارے دیش کی مٹی کبھی بزدل نہیں ہوں گی

7

Download Image

مٹا کے نفرتیں ہر دل سے پیار دیتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خیریت ہے وہ ہے وہ محبت اتار دیتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

مجھے کسی کی محبت نے کر دیا بزدل
وگر
لگ ملک پہ یہ جان وار دیتا ہے وہ ہے وہ

6

Download Image

ا
گر میرا نشہ تھا ا
سے کے سر پہ تو اتر جائے
نہیں ہے عشق اس کا کو مجھ سے تو منا پر مکر جائے

محبت دل لگی سب کام ہیں صاحب دلیرون کے
م
گر جو بھی ی
ہاں بزدل ہے سیدھے اپنے گھر جائے

6

Download Image

بیٹھا رہتا ساحل پہ پر دریا پار نہیں کرتا
مطلب تو بھی لہروں سے پھروں مجھسا پیار نہیں کرتا

تکتے بیٹھے ساحل پہ ہم کشتی لے طوفانوں کو
پر حقیقت اتنا نچوا ہے کی ہم پر وار نہیں کرتا

5

Download Image

ستارے تم اور قسمت دیکھ کر گھر سے نکلتے ہیں
جو بزدل ہیں مہورت دیکھ کر گھر سے نکلتے ہیں

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ لیکن سفر کی مشکلوں سے ڈر نہیں لگتا
کہ ہم بچوں کی صورت دیکھ کر گھر سے نکلتے ہیں

74

Download Image

بزدل لفظ ایسے شخص کی تصویر پیش کرتا ہے جس کا دل حوصلے سے خالی ہوتا ہے، اکثر ایسے شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو چیلنجز یا مقابلوں سے دور بھاگتا ہے۔ شاعری میں، یہ خوف اور بہادری کے درمیان اندرونی جدوجہد کی علامت ہو سکتا ہے، جو انسانی حالت کی کمزوری کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'بزدل' کا استعمال خوف اور ہچکچاہٹ کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ بہادری کے برعکس ہوتا ہے، ایک تناؤ پیدا کرتا ہے جو انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اسے بہادری کی سماجی توقعات پر تنقید کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شاعری میں، 'بزدل' ایک آئینہ کے طور پر کام کرتا ہے جو ہمارے اندر موجود خوف کو ظاہر کرتا ہے۔