Meaning of

در ستم

dar-e-sitam • दर-ए-सितम

ظلم کا دروازہ; تکلیف کا دروازہ

door of oppression; gateway to suffering

अत्याचार का द्वार; पीड़ा का प्रवेशद्वार

Persian

یہ عبارت ایک ایسی دنیا میں داخلے کی تصویر پیش کرتی ہے جہاں ظلم و ستم کا سامنا ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ اس دنیا میں داخلے کی علامت ہے جہاں تکلیف لازمی ہے، اکثر افراد یا برادریوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

شاعر اکثر اسے مشکل سفر کے آغاز کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ ان جذباتی رکاوٹوں کی بھی نمائندگی کر سکتا ہے جن کا سامنا فرد کو ہوتا ہے۔ یہ عبارت ان الفاظ کے برعکس ہے جو امید یا آزادی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

در ستم مصیبت میں قدم رکھنے کے دردناک لمحے کو پکڑتا ہے۔ یہ ہمیں زندگی کی آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لیے درکار استقامت کی یاد دلاتا ہے۔