Meaning of

دل پامال

dil-e-paamaal • दिल-ए-पामाल

دل کچلا ہوا; دل ٹوٹا ہوا

heart trampled; heart broken

दिल कुचला हुआ; दिल टूटा हुआ

Persian

شاخ امید سے کڑوا بھی اتر سکتا ہوں
روز یہ بات مجھے دل پامال کا پھل کہتا ہے

28

Download Image

ہے وہ ہے وہ کیا ک
ہوں کے مجھے دل پامال کیوں نہیں آتا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کروں کے تجھے دیکھنے کی عادت ہے

118

Download Image

حقیقت مجھ کو چھوڑ کے ج
سے آدمی کے پا
سے گیا تو
برابری کا بھی ہوتا تو دل پامال آ جاتا

108

Download Image

مری ہونٹوں کے دل پامال سے پوچھو
ا
سے کے ہاتھوں سے گال تک کا سفر

60

Download Image

ا
سے گلی نے یہ سن کے دل پامال کیا
جانے والے ی
ہاں کے تھے ہی نہیں

51

Download Image

کہی یہ دل پامال کھا جائے لگ ہم کو
کسی کے دکھ سمیٹے پھروں رہے ہیں

45

Download Image

ہم ا
گر دل پامال ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں تو کیا کچھ بھی نہیں
جانے والو کبھی آ دیکھو بچا کچھ بھی نہیں

44

Download Image

وحشت کے زہر سے تازہ غزل نکال
اے دل پامال کے درخت میرا میٹھا پھل نکال

43

Download Image

عشق ہے وہ ہے وہ جی کو دل پامال و تاب کہاں
ا
سے سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں

34

Download Image

بھوک ہے تو دل پامال کر روٹی نہیں تو کیا ہوا
آجکل دہلی ہے وہ ہے وہ ہے کاٹو یہ مدعا

31

Download Image

شاخ امید سے کڑوا بھی اتر سکتا ہوں
روز یہ بات مجھے دل پامال کا پھل کہتا ہے

28

Download Image

ہے وہ ہے وہ کیا ک
ہوں کے مجھے دل پامال کیوں نہیں آتا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کروں کے تجھے دیکھنے کی عادت ہے

118

Download Image

یہ فقرہ گہرے جذباتی ہلچل کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں دل صرف ٹوٹا نہیں بلکہ غم کے بوجھ تلے کچلا گیا ہے۔ شاعری میں، یہ تصویر اکثر ناکام محبت یا دھوکہ دہی کے گہرے اثرات کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

شاعر اس فقرے کا استعمال دل کے درد اور مایوسی کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر کھوئی ہوئی محبت کے بارے میں اشعار میں ظاہر ہوتا ہے، جذباتی تکلیف کی گہرائی کو اجاگر کرتا ہے۔ 'کچلے ہوئے دل' کی تصویر صرف اداس دل کے خیال کے برعکس ہے۔

شاعری کی دنیا میں، دل پامال ایک دل کی خاموش چیخوں کا جوہر پکڑتا ہے۔ یہ جذباتی تباہی کے درمیان انسانی روح کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔