Meaning of
دشمن امن و سکون
dushman-e-amn-o-sukoon • दुश्मन-ए-अम्न-ओ-सुकूँ
Urdu
امن و سکون کا دشمن
English
enemy of peace and tranquility
Hindi
शांति और सुकून का दुश्मन
Origin
Persian
Nuance
یہ فقرہ انتشار اور خلل کی تصاویر کو ابھارتا ہے، جو پرسکون اور ہم آہنگ کے برعکس ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ان قوتوں کی علامت ہوتا ہے جو قدرتی ترتیب یا اندرونی سکون کو متاثر کرتی ہیں۔
Poetic Usage
شاعر اس لفظ کا استعمال معاشرے میں یا خود کے اندر ہلچل کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ انتشار کے درمیان امن کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کو بھی اجاگر کر سکتا ہے۔
Closing Insight
شاعری کی دنیا میں، 'دشمن امن و سکون' مطلوبہ امن کے پس منظر میں تنازعہ کے جوہر کو پکڑتا ہے۔