Meaning of

اعتبار

etbaar • एतबार

اعتماد; یقین; بھروسہ

trust; belief; faith

विश्वास; आस्था; भरोसा

Arabic

آپ تشریف لائے تھے اک روز
دوسرے روز اعتبار ہوا

34

Download Image

حقیقت جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اعتبار لگ کرتا تو اور کیا کرتا

105

Download Image

ہے وہ ہے وہ اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں
مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں

68

Download Image

حد سے زیادہ بھی پیار مت کرنا
جی ہر اک پہ نثار مت کرنا

کیا خبر ک
سے جگہ پہ رک جائے
سان
سے کا اعتبار مت کرنا

57

Download Image

اسی
لیے ہے وہ ہے وہ چیزیں پر سوگوار نہیں
سکون پہلی ضرورت ہے تیرا پیار نہیں

جواب ڈھونڈنے ہے وہ ہے وہ عمر مت گنوا دینا
سوال کرتی ہے دنیا پر اعتبار نہیں

56

Download Image

عادتن جاناں نے کر دیے وعدے
عادتن ہم نے اعتبار کیا

52

Download Image

اعتبار آتا نہیں تو آزما کے دیکھ لے
ہم تری سب چاہنے والوں ہے وہ ہے وہ اول آئیں گے

50

Download Image

اب ان حدود ہے وہ ہے وہ لایا ہے انتظار مجھے
حقیقت آ بھی جائیں تو آئی لگ اعتبار مجھے

37

Download Image

آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے

37

Download Image

تری وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر لگ جاتے ا
گر اعتبار ہوتا

37

Download Image

آپ تشریف لائے تھے اک روز
دوسرے روز اعتبار ہوا

34

Download Image

حقیقت جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اعتبار لگ کرتا تو اور کیا کرتا

105

Download Image

اعتبار اعتماد اور یقین کا بوجھ اٹھاتا ہے، ایک نازک دھاگہ جو رشتوں اور وعدوں کو باندھتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر روحوں کے درمیان نازک لیکن گہرے تعلق کی علامت ہوتا ہے، جہاں یقین ایک تحفہ بھی ہے اور ایک بوجھ بھی۔

شاعر اعتبار کا استعمال اعتماد اور دھوکہ دہی کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں، محبت کرنے والوں کے درمیان خاموش وعدوں اور ان دیکھے بندھنوں کو ظاہر کرنے کے لیے جو لوگوں کو ایک ساتھ رکھتے ہیں۔ یہ شک اور شبہ کے برعکس ہے، یقین کی پاکیزگی اور نازکی کو اجاگر کرتا ہے۔

اعتبار یقین کا وہ خاموش دھاگہ ہے جو انسانی تعلقات کی داستان میں بُنتا ہے، نازک مگر پائیدار۔