Meaning of

فراز

faraaz • फ़राज़

بلندی; عروج; نمایاں مقام

elevation; height; prominence

ऊँचाई; शिखर; प्रमुखता

Persian

اسے فراز ا
گر دکھ لگ تھا چیزیں کا
تو کیوں حقیقت دور تلک دیکھتا رہا مجھ کو

27

Download Image

مجھے کہتا ہے جھوٹی ہیں تیری بیکار سی باتیں فراز
م
گر لگتا ہے حقیقت مری انہی باتوں پہ مرتا ہے

56

Download Image

ا
سے کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز
رونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی

46

Download Image

زندگی پر ا
سے سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فراز
ا
سے کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوا
لگ نہیں

41

Download Image

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

39

Download Image

ٹوٹا تو ہوں م
گر ابھی بکھرا نہیں فراز
مری بدن پہ چنو شکستوں کا جال ہوں

38

Download Image

جاناں تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہوں فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

36

Download Image

سب خواہشیں پوری ہوں فراز ایسا نہیں ہے
چنو کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

34

Download Image

چپ چاپ اپنی آگ ہے وہ ہے وہ جلتے رہو فراز
دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے

32

Download Image

لو پھروں تری لبوں پہ اسی بےوفا کا ذکر
احمد فراز تجھ سے کہا نا بے حد ہوا

30

Download Image

اسے فراز ا
گر دکھ لگ تھا چیزیں کا
تو کیوں حقیقت دور تلک دیکھتا رہا مجھ کو

27

Download Image

مجھے کہتا ہے جھوٹی ہیں تیری بیکار سی باتیں فراز
م
گر لگتا ہے حقیقت مری انہی باتوں پہ مرتا ہے

56

Download Image

فراز کا اصل مطلب بلندی یا عروج ہے، جہاں زمین آسمان سے ملتی ہے۔ شاعری میں یہ اپنے لغوی معنی سے آگے بڑھ کر عظمت کی تلاش اور خواہش کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ انسانی روح کی اس تمنا کو ظاہر کرتا ہے جو معمولی سے اوپر اٹھ کر عظمت کو چھونے کی خواہش رکھتی ہے۔

فراز کا استعمال شاعر اکثر جذبات یا کامیابیوں کی بلندی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کی انتہا، غم کی گہرائی، یا ذاتی سفر کی چوٹی کا استعارہ ہو سکتا ہے۔ یہ گہرائی یا زوال ظاہر کرنے والے الفاظ کے برعکس انسانی تجربے کی دوگانگی کو اجاگر کرتا ہے۔

فراز ستاروں تک پہنچنے کی خواہش کا جوہر ہے، جو انسانی دل کی بے پایاں خواہشات کا ثبوت ہے۔