Meaning of
فتنہ و شر
fitna-o-shar • फितना-ओ-शर
Urdu
افراتفری اور شرارت; ہلچل اور پریشانی
English
chaos and mischief; turmoil and trouble
Hindi
अराजकता और शरारत; उथल-पुथल और परेशानी
Origin
Arabic
Nuance
یہ فقرہ بے ترتیبی اور تنازعہ کی غیر مستحکم فطرت کے جوہر کو پکڑتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر زندگی اور انسانی نفسیات کے ہلچل بھرے پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے، جہاں افراتفری کا راج ہوتا ہے اور سکون نایاب ہوتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر 'فتنہ و شر' کا استعمال سماجی بے چینی اور ذاتی اندرونی تنازعہ کے موضوعات میں گہرائی سے جانے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ نظم و ضبط اور افراتفری کے درمیان جدوجہد کے لئے ایک استعارہ کے طور پر کام کرتا ہے۔
Closing Insight
شاعری کی دنیا میں، 'فتنہ و شر' افراتفری اور نظم کے درمیان ابدی رقص کو مجسم کرتا ہے، جو انسانی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔