Meaning of
گرفت خوف
girift-e-khauf • गिरफ़्त-ए-ख़ौफ़
Urdu
خوف کی گرفت; دہشت کی پکڑ
English
grip of fear; hold of dread
Hindi
भय की पकड़; डर का जकड़
Origin
Persian
Nuance
گرفت خوف کا فقرہ خوف کے جال میں پھنسنے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ اس طاقتور قوت کو ظاہر کرتا ہے جو خوف انسانی روح پر ڈال سکتا ہے۔ شاعری میں، یہ کمزوری اور جرات پر منڈلاتے سائے کی روح کو پکڑتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر 'گرفت خوف' کا استعمال اندرونی ہلچل اور وجودی دہشت کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر ان اشعار میں ظاہر ہوتا ہے جو نفسیات کے تاریک گوشوں میں اترتے ہیں، جہاں خوف غالب ہوتا ہے۔
Closing Insight
شاعری میں، 'گرفت خوف' روح کے گہرے خوف کا آئینہ ہے۔ یہ انسانی حالت کی نازکی کا ثبوت ہے۔