Meaning of

گلزار

gulzar • गुलजार

باغ; جنت

garden; paradise

बाग; स्वर्ग

Persian

تیری قربت ہے وہ ہے وہ گزرے ہیں مری لمحے پرانی کچھ
مری تنہائی کو رہ رہ کے جو گلزار کرتے ہیں

0

Download Image

روشنی ایسی غضب تھی رنگ بھومی کی نسیم گلزار ناز
ہوں گئے کردار مدغم کرشن بھی رادھا لگا

17

Download Image

کوئی آساں نہیں دل ناشاد کرنا پیار کا گلشن
ج
گر کے خون سے آب جاں نثاری اسے تب جا کے کھلتا ہے

5

Download Image

شعر کوئی نہیں دسمبر پر
خاک شاعر بنے گلزار جناں ہوں جاناں

3

Download Image

سدھارا
سے آپ کے ادھروں سے تھوڑا سا پلا دو تو
مری دل کا یہ ریگستان بھی دل ناشاد ہوں جائے

2

Download Image

دل کی خاطر ایک رشتے کو بچانے کے لیے
آگ ہے وہ ہے وہ نے ہی لگا لی خود مری گلزار ہے وہ ہے وہ

1

Download Image

چلا ہوں اب جو ہے وہ ہے وہ بے فکر زمانے سے
دیکھ شبنم بھی شعلوں سے کچا جاتے ہیں

خوشیاں اتنی بانٹی تھی بہار اے گلزار ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کہ موسم اے خزا ہے وہ ہے وہ بھی پھول مہک جاتے ہیں

0

Download Image

تیری قربت ہے وہ ہے وہ گزرے ہیں مری لمحے پرانی کچھ
مری تنہائی کو رہ رہ کے جو گلزار کرتے ہیں

0

Download Image

روشنی ایسی غضب تھی رنگ بھومی کی نسیم گلزار ناز
ہوں گئے کردار مدغم کرشن بھی رادھا لگا

17

Download Image

اصل میں 'گلزار' ایک سرسبز باغ کی تصویر پیش کرتا ہے، جو خوبصورتی اور سکون کی جگہ ہے۔ شاعری میں، یہ جذبات کی جنت کی علامت بن جاتا ہے، جہاں خوبصورتی اور سکون ایک ساتھ رہتے ہیں۔ یہ لفظ زندگی کی فراوانی اور زندہ رنگوں کا احساس دلاتا ہے، قاری کو ایک ایسے دنیا کا تصور کرنے کی دعوت دیتا ہے جو غم سے پاک ہو۔

شاعر اکثر 'گلزار' کا استعمال ایک مثالی دنیا کو پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں، جو حقیقت سے ایک پناہ ہے۔ یہ دل کے باغ کی نمائندگی کر سکتا ہے، جہاں محبت اور خواب کھلتے ہیں۔ کبھی کبھی، یہ بنجر مناظر کے برعکس ہوتا ہے، جذبات کی دولت کو اجاگر کرتا ہے۔

'گلزار' ایک شاعرانہ پناہ گاہ ہے، خوبصورتی کی ابدی موجودگی کی یاد دلاتا ہے۔