Meaning of

حیات جاوداں

hayaat-e-jawedaan • हयात-ए-जावेदाँ

ابدی زندگی; لافانیت

eternal life; immortality

अनंत जीवन; अमरता

Persian

ایک دیوانے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ایک دیوانی رقص کرے گی
سناٹے کی تر کٹ دھن پر روز اداسی رقص کرے گی

یار کہانی لکھنے والے جلدی ملوا ہم دونوں کو
ہم دونوں کے ملنے پر ہی تیری کہانی رقص کرے گی

میری غزلیں جاناں فروغ تجلی تو خوشبو خوشبو ہوں جائے گی
چنو چمپا کے پھولوں پر ننھی تتلی رقص کرے گی

تاناشاہ نے کیا سوچا تھا شہزادی کو باندھ سکےگا
پیادے کی دھن پر گائےگی عشق کرے گی رقص کرے گی

اک مدت سے گم سوم تھی جو پیا ملن پر چہک اٹھی ہے
ڈھول نگاڑے بجواو اب پاگل لڑکی رقص کرے گی

ہم دونوں کے مل جانے سے جھوم اٹھےگا سارا پیغام حیات جاوداں
موہن کے کندھے پر سر رکھ رادھا رانی رقص کرے گی

1

Download Image

حسرت کی بھی قبول ہوں پیغام حیات جاوداں ہے وہ ہے وہ حاضری
سنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آج

36

Download Image

نغمہ کرشن تھا
ہر راتوں رات بانسری کا

35

Download Image

میرا کچھ بھی نہیں مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذرا بھی
یہی اک طور ہے کیا اب ترا بھی

لیا بڑھانے ادھاری دوستوں سے
تجھے پیغام حیات جاوداں گھمایا آگرہ بھی

33

Download Image

ایک دیوانے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ایک دیوانی رقص کرے گی
سناٹے کی تر کٹ دھن پر روز اداسی رقص کرے گی

یار کہانی لکھنے والے جلدی ملوا ہم دونوں کو
ہم دونوں کے ملنے پر ہی تیری کہانی رقص کرے گی

میری غزلیں جاناں فروغ تجلی تو خوشبو خوشبو ہوں جائے گی
چنو چمپا کے پھولوں پر ننھی تتلی رقص کرے گی

تاناشاہ نے کیا سوچا تھا شہزادی کو باندھ سکےگا
پیادے کی دھن پر گائےگی عشق کرے گی رقص کرے گی

اک مدت سے گم سوم تھی جو پیا ملن پر چہک اٹھی ہے
ڈھول نگاڑے بجواو اب پاگل لڑکی رقص کرے گی

ہم دونوں کے مل جانے سے جھوم اٹھےگا سارا پیغام حیات جاوداں
موہن کے کندھے پر سر رکھ رادھا رانی رقص کرے گی

1

Download Image

حسرت کی بھی قبول ہوں پیغام حیات جاوداں ہے وہ ہے وہ حاضری
سنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آج

36

Download Image

یہ فقرہ وجود کی لافانیت اور نہ ختم ہونے والی فطرت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر روح کے جسمانی دنیا سے آگے کے سفر کی علامت ہوتا ہے، جو ابدیت اور الہی کے موضوعات کو چھوتا ہے۔

شاعر اس فقرے کا استعمال موت کے بعد کی زندگی، روح کی لافانیت، اور ابدی سچائی کی تلاش کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دنیاوی زندگی کی عارضی فطرت کے برعکس ہے۔

شاعری میں 'حیات جاوداں' ابدیت کی طرف ایک پل بن جاتا ہے، روح کے لامتناہی سفر پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔