Meaning of

داؤ

hikmat-e-dauraan • हिकमत-ए-दौराँ

عصر کی حکمت; زمانے کی بصیرت

wisdom of the era; insight of the times

युग की बुद्धिमत्ता; समय की अंतर्दृष्टि

Arabic

نظر خاموش رہتی ہے ادائیں بات کرتی ہیں
سنور کر جب نکلتی ہے تو راہیں بات کرتی ہیں

ہے بھولاپن اداؤں ہے وہ ہے وہ سبھی کے سامنے ا
سے کا
مجھے معلوم ہے ا
سے کی نگاہیں بات کرتی ہیں

2

Download Image

ہم ا
سے کے دل ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں سو اچھے ہیں وگر
لگ دوست
اداؤں سے تو عاشق کو حقیقت زندہ مار دیتی ہے

46

Download Image

ایسے ہن
سے ہن
سے کے لگ دیکھا کروں سب کی جانب
لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں

43

Download Image

خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
پھروں بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

38

Download Image

رہنماؤں کی اداؤں پہ فدا ہے دنیا
ا
سے بہکتی ہوئی دنیا کو سنبھالو یاروں

34

Download Image

روز اک جھیل راہ تکتی ہے کھینچ لیتا ہے ایک الاؤ مجھے
جنتی ہوں تو پھروں بڑھو آگے تتلیوں آؤ گدگداؤ مجھے

23

Download Image

کیا کیا گماں لگ تھے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیوار و در کے بیچ
اونچائیاں پہ جا کے خلاوں سے ڈر گئے

مجمعے ہے وہ ہے وہ کر رہے تھے جو بے خوفیوں کی بات
تنہا ہوئے تو اپنی صداؤں سے ڈر گئے

12

Download Image

ذرا پہچان تو مجھ کو تری دل ہے وہ ہے وہ سمایا ہوں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیوا
لگ ہوں تیرا ہی تجھی کو لینے آیا ہوں

محبت کی اداؤں سے نہیں واقف ہے تو جاناں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو بھول بیٹھا پر لگ تجھ کو بھول پایا ہوں

4

Download Image

جن بھی آنکھوں نے تیرا خواب سجایا ہوگا
پھروں کبھی ان کو زما
لگ نہیں بھایا ہوگا

حقیقت تجھے دوست بتاتے ہیں مجھے حیرت ہے
ان اداؤں پہ ا
نہیں پیار تو آیا ہوگا

3

Download Image

تفتیش کر کے بھی لگ ملا کچھ خداؤں کہی
حقیقت پہلے سے سمجھتا تھا چالاکی کو مری

2

Download Image

نظر خاموش رہتی ہے ادائیں بات کرتی ہیں
سنور کر جب نکلتی ہے تو راہیں بات کرتی ہیں

ہے بھولاپن اداؤں ہے وہ ہے وہ سبھی کے سامنے ا
سے کا
مجھے معلوم ہے ا
سے کی نگاہیں بات کرتی ہیں

2

Download Image

ہم ا
سے کے دل ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں سو اچھے ہیں وگر
لگ دوست
اداؤں سے تو عاشق کو حقیقت زندہ مار دیتی ہے

46

Download Image

اپنے وقت کی باریکیوں کو سمجھنے سے پیدا ہونے والی حکمت کو 'حکمت دوراں' کہا جاتا ہے۔ یہ ایک دور کے اجتماعی علم اور بصیرت کا عکس ہے، جو معاشرے کو درپیش چیلنجوں اور کامیابیوں سے تشکیل پاتا ہے۔

شعراء اکثر 'حکمت دوراں' کا استعمال لازوال حکمت کے احساس کو بیدار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ تاریخ سے سیکھے گئے سبق یا دنیا کی موجودہ حالت پر تبصرہ ہو سکتا ہے۔ یہ عارضی رجحانات کے برعکس، پائیدار سچائیوں پر زور دیتا ہے۔

شاعری میں، 'حکمت دوراں' ماضی اور حال کے درمیان پل کا کام کرتی ہے، جو وقت کو عبور کرنے والی بصیرت پیش کرتی ہے۔