Meaning of

ابتدا سوز

ibtidaa-e-soz • इब्तिदा-ए-सोज़

سوز کی ابتدا; جذبے کا آغاز

beginning of burning; onset of passion

जलन की शुरुआत; जुनून का आरंभ

Persian

'ابتدا سوز' جلنے یا جذبے کی ابتدائی چنگاری کو بیان کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ گہری خواہش یا آرزو کے آغاز میں پیدا ہونے والے کچے اور شدید جذبات کو قید کرتا ہے۔

شاعر 'ابتدا سوز' کا استعمال نئی جذبات کی شدت اور جوش کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جذبے کی کھپت کرنے والی فطرت کا استعارہ ہے، جو روشن بھی کر سکتی ہے اور تباہ بھی۔

شاعری کے منظرنامے میں، 'ابتدا سوز' خواہش کی آتشیں شروعات کو مجسم کرتا ہے۔ یہ جذبے کی دوہری فطرت کی یاد دہانی کراتا ہے، جو تخلیقی بھی ہے اور تباہ کن بھی۔