Meaning of

التہاب

iltihaab • इल्तिहाब

سوجن; جوش

inflammation; fervor

सूजन; जोश

Arabic

التہاب اپنے اصل معنی میں جسمانی سوجن کو ظاہر کرتا ہے، ایک ایسی حالت جس میں سوجن اور جلن ہوتی ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ اپنے طبی جڑوں سے آگے بڑھ کر جلتی ہوئی جذبات یا جوش کی کیفیت کو بیان کرتا ہے، جو انسانی دل میں ابھرنے والے جذبات کی شدت کو پکڑتا ہے۔

شاعر اکثر التہاب کا استعمال عاشق کے دل کو جلانے والے جذبات کی وضاحت کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جلتی ہوئی خواہش یا جدائی کے شدید درد کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ سکون کے برعکس ہے، جو پرجوش محبت کی ہنگامہ خیز فطرت کو اجاگر کرتا ہے۔

التہاب انسانی جذبات کی آتش گیر جوہر کو پکڑتا ہے، ایک یاد دہانی کہ محبت کس طرح کی جلتی ہوئی شدت کو بھڑکا سکتی ہے۔