Meaning of

جعل

jaal • जअल

دھوکہ; فریب; چال

fraud; deception; trickery

धोखा; छल; कपट

Arabic

رات کی بھیگی بھیگی مٹی سے کچھ اجالے اگا رہی ہوں گی
مری دنیا ہے وہ ہے وہ کر کے اندھیارا حقیقت دیوالی منا رہی ہوں گی

45

Download Image

ملے کسی سے گرے ج
سے بھی جال پر مری دوست
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھوڑ چکا ا
سے کے حال پر مری دوست

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ سبکا مقدر تو مری جیسا نہیں
کسی کے ساتھ تو ہوگا حقیقت کال پر مری دوست

157

Download Image

ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت میرا حقیقت حال کرے
کہ خواب ہے وہ ہے وہ بھی دوبارہ کبھی مجال لگ ہوں

136

Download Image

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
لگ جانے ک
سے گلی ہے وہ ہے وہ زندگی کی شام ہوں جائے

113

Download Image

حقیقت ج
سے پر ا
سے کی رحمت ہوں حقیقت دولت مانگتا ہے کیا
محبت کرنے والا دل محبت مانگتے ہے کیا

تمہارا دل کہے جب بھی اجالا بن کے آ جانا
کبھی اگتا ہوا سورج اجازت مانگتا ہے کیا

98

Download Image

محنت تو کرتا ہوں پھروں بھی گھر خالی ہے بابوجی
مٹی کے کچھ دیپک لے لو دیوالی ہے بابوجی

مٹی بیچ رہا ہوں ج
سے ہے وہ ہے وہ کوئی جال فریب نہیں
سونا چان
گرا دودھ مٹھائی سب نمازیوں ہے بابوجی

62

Download Image

اک لڑکا شبدوں کا جال بچھاتا ہے
اور اک لڑکی خواب پرو نے لگتی ہے

53

Download Image

کسے فرصت ماہ و سال ہے یہ سوال ہے
کوئی سمے ہے بھی کہ جال ہے یہ سوال ہے

52

Download Image

ہے وہ ہے وہ اندھیروں سے بچا لایا تھا اپنے آپ کو
میرا دکھ یہ ہے مری پیچھے اجالے پڑ گئے

51

Download Image

کئی دنوں سے اندھیروں کا بولبالا ہے
چراغ لے کے پکارو ک
ہاں اجالا ہے

46

Download Image

رات کی بھیگی بھیگی مٹی سے کچھ اجالے اگا رہی ہوں گی
مری دنیا ہے وہ ہے وہ کر کے اندھیارا حقیقت دیوالی منا رہی ہوں گی

45

Download Image

ملے کسی سے گرے ج
سے بھی جال پر مری دوست
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھوڑ چکا ا
سے کے حال پر مری دوست

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ سبکا مقدر تو مری جیسا نہیں
کسی کے ساتھ تو ہوگا حقیقت کال پر مری دوست

157

Download Image

اپنی اصل میں، 'جعل' دھوکہ اور چالاکی کا احساس دیتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا جال ہے جو دوسروں کو اپنی منصوبوں میں پھنسانا چاہتے ہیں، اکثر معصومیت کے پردے کے ساتھ۔ شاعری نے اس لفظ کو حقیقت اور فریب کے درمیان پیچیدہ رقص کو تلاش کرنے کے لئے لیا ہے، جہاں حقیقت اکثر دھوکہ کی چھاؤں سے ڈھکی ہوتی ہے۔

شاعر 'جعل' کا استعمال اکثر انسانی جذبات کی الجھن کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ قسمت کے بچھائے ہوئے جال یا خود فریبی کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ پاکیزگی اور معصومیت کے برعکس ہے، جو انسانی فطرت کی پیچیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'جعل' سچائی اور فریب کے درمیان نازک توازن کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ ہماری زندگیوں کو شکل دینے والی نادیدہ قوتوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔