Meaning of

ظفر

jafar • जफर

فتح; کامیابی; کامرانی

victory; triumph; success

विजय; जीत; सफलता

Arabic

میر و غالب انی
سے جون و شجر
سب کے سب ریختہ کی ظفر ہیں

1

Download Image

عید کا دن تو ہے م
گر جعفر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اکیلے تو ہن
سے نہیں سکتا

31

Download Image

مجھے معلوم ہے دنیا مجھے کب تک پکارےگی
کرائے کے مکانوں ہے وہ ہے وہ کبھی ظفر نہیں ملتی

تو پھروں جنت حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں ہے مان لے زاہد
ہمارے ساتھ رہ کر بھی ا
گر جنت نہیں ملتی

27

Download Image

لڑاکر ہرے کو حقیقت بھگوا سے دیکھو
ظفر اب کبوتر اڑانے لگا ہے

4

Download Image

ی
ہاں انسان کو انسان بننے کی ضرورت ہے
تو پھروں کیوں لوگ کرتے ہیں ہمیشہ خون کی باتیں

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دو گج وقار کیوں مانگتا احباب سے اپنے
اسے اچھی لگی ہوتیں ا
گر رنگون کی باتیں

2

Download Image

حقیقت پودا عشق کا اب گن رہا ہے آخری سانسیں
مظفر پور ہے وہ ہے وہ پنگایا تھا خوشی خوں سے ہے وہ ہے وہ ج
سے کو

1

Download Image

اے رضا کچھ لڑکیاں جو گھر کی ظفر تھیں کبھی
رونق بازار ہوتی جا رہی ہیں آج کل

1

Download Image

تجھ سے ملنے کی تمنا تو نہیں لیکن کروں کیا
گھر کے رستے ہے وہ ہے وہ مظفر پور بھی آ جاتا ہے یاروں

1

Download Image

کر چکے ہم بہار سے توبہ
بھاڑ ہے وہ ہے وہ جائے اب مظفر پور

1

Download Image

عشق اچھی بھلی مصیبت ہے
زندگی ہے وہ ہے وہ اسی سے ظفر ہے

1

Download Image

میر و غالب انی
سے جون و شجر
سب کے سب ریختہ کی ظفر ہیں

1

Download Image

عید کا دن تو ہے م
گر جعفر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اکیلے تو ہن
سے نہیں سکتا

31

Download Image

اصل میں فتح کے معنی رکھنے والا یہ لفظ کامیابی اور کامرانی کی تصاویر پیش کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر آخری کامیابی یا سخت جدوجہد کے میٹھے پھل کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر اسے ذاتی فتوحات کا جشن منانے یا محبت کی مشکلات پر فتح کی علامت بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ روح کی اندرونی فتح کو بھی ظاہر کر سکتا ہے۔

ظفر فتح کی روح کو پکڑتا ہے، بیرونی دنیا میں اور روح کے اندر۔