Meaning of

جمع

jama • जम्अ'

اجتماع; مجموعہ; محفل

gathering; collection; assembly

संग्रह; सभा; एकत्रीकरण

Arabic

ک
سے طرح جمع کیجیے اب اپنے آپ کو
کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے

22

Download Image

ہم نے اچھی دھاک جمع رکھی تھی اپنی
پھروں ا
سے نے چھوڑا اور سب پانی کر ڈالا

63

Download Image

ہے وہ ہے وہ سوچتا ہوں لگ جانے ک
ہاں سے آ گئے ہیں
ہمارے بیچ زمانے ک
ہاں سے آ گئے ہیں

61

Download Image

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
سبھی کو کوئی لگ کوئی وبال درد کا ہے

کسی نے پوچھا کے فرحت بے حد حسین ہوں جاناں
تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

33

Download Image

خود جسے محنت مشقت سے بناتا ہوں جمال
چھوڑ دیتا ہوں حقیقت رستہ آم ہوں جانے کے بعد

32

Download Image

جمع ہم نے کیا ہے غم دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ا
سے کا اب سود کھائے جائیں گے

29

Download Image

کیوں اک طرف نگاہ جمائے ہوئے ہوں جاناں
کیا راز ہے جو مجھ سے چھپائے ہوئے ہوں جاناں

28

Download Image

آ دیکھ کہ مری آنسوؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
یہ ک
سے کا جمال آ گیا تو ہے

27

Download Image

گلی ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں ا
سے کی نظر جمائے ہوئے
ہمارے ب
سے ہے وہ ہے وہ فقط انتظار کرنا ہے

26

Download Image

ذرا وصال کے بعد آئی
لگ تو دیکھ اے دوست
تری جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

24

Download Image

ک
سے طرح جمع کیجیے اب اپنے آپ کو
کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے

22

Download Image

ہم نے اچھی دھاک جمع رکھی تھی اپنی
پھروں ا
سے نے چھوڑا اور سب پانی کر ڈالا

63

Download Image

اصل میں، 'جمع' کا مطلب ہے اکٹھا کرنا یا جمع کرنا۔ شاعری میں، یہ اجتماعی ہم آہنگی کی تصویر پیش کرتا ہے، جہاں مختلف عناصر ایک ساتھ آ کر ایک متحد کل بناتے ہیں۔

شاعر اکثر 'جمع' کا استعمال تنوع کے درمیان اتحاد کی خوبصورتی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جذبات، خیالات یا لوگوں کے جمع ہونے کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ تنہائی کے برعکس، یکجہتی کی گرمی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'جمع' اتحاد کا جشن ہے، اکٹھا ہونے کی طاقت کا ثبوت ہے۔