Meaning of

جمال

jamaal • जमाल

خوبصورتی; حسن; نزاکت

beauty; elegance; grace

सौंदर्य; सुंदरता; कृपा

Arabic

حسن و جمال ا
سے کا مکمل غزل سا ہے
اک تل ہے رکھ پہ چنو کہ نکتہ لگا ہوا

7

Download Image

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
سبھی کو کوئی لگ کوئی وبال درد کا ہے

کسی نے پوچھا کے فرحت بے حد حسین ہوں جاناں
تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

33

Download Image

خود جسے محنت مشقت سے بناتا ہوں جمال
چھوڑ دیتا ہوں حقیقت رستہ آم ہوں جانے کے بعد

32

Download Image

آ دیکھ کہ مری آنسوؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
یہ ک
سے کا جمال آ گیا تو ہے

27

Download Image

ذرا وصال کے بعد آئی
لگ تو دیکھ اے دوست
تری جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

24

Download Image

تری جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن
زبان ہے وہ ہے وہ آنکھ نہیں آنکھ ہے وہ ہے وہ زبان نہیں

17

Download Image

جو مٹا ہے تری جمال پر حقیقت ہر ایک غم سے گزر گیا تو
ہوئیں ج
سے پہ تیری نوازشیں حقیقت بہار بن کے سنور گیا تو

16

Download Image

دل کی بسات کیا تھی نگاہ جمال ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اک آئی
لگ تھا ٹوٹ گیا تو دیکھ بھال ہے وہ ہے وہ

12

Download Image

اس کا کو دیکھا تبھی خدا نے لفظ جمال ایجاد کیا
حقیقت بولی تو بہرو نے بھی سن سن کر ارشاد کیا

8

Download Image

کبھی تو آ جائے کوئی ایک سال میرا
کہ ج
سے ہے وہ ہے وہ بہتر ہوں یہ ملول حال میرا

کہی مصور کو بھول تو نہیں بیٹھا
یہ جو ہے وہم زیبائی و جمال میرا

8

Download Image

حسن و جمال ا
سے کا مکمل غزل سا ہے
اک تل ہے رکھ پہ چنو کہ نکتہ لگا ہوا

7

Download Image

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
سبھی کو کوئی لگ کوئی وبال درد کا ہے

کسی نے پوچھا کے فرحت بے حد حسین ہوں جاناں
تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

33

Download Image

جمال خالص ترین شکل میں خوبصورتی کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں جسمانی دلکشی اور اندرونی نزاکت دونوں شامل ہیں۔ شاعری میں، یہ اکثر صرف جمالیات سے آگے بڑھ کر روح کی ہم آہنگی اور کائنات کے پیچیدہ ڈیزائن کا عکس بن جاتا ہے۔

شاعر 'جمال' کا استعمال فطرت کی اعلیٰ خوبصورتی یا محبوب کی ماورائی دلکشی کو ابھارنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ کمال اور الہی نزاکت کے مثالی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

شاعری میں جمال خوبصورتی کی ابدی تلاش کا ثبوت ہے، جو دیکھی اور ان دیکھی دونوں میں موجود ہے، وجود کی ہم آہنگی کو گونجتا ہے۔