Meaning of

جنازہ

janaaza • जनाज़ा

جنازہ; تابوت; میت

funeral procession; bier; coffin

अंतिम यात्रा; अर्थी; ताबूत

Arabic

بے پناہ یہ زندگی ایسا تماشا کر رہی ہے
ہم لگ جی سکتے لگ یہ کافر جنازہ کر رہی ہے

2

Download Image

کسی سے چھوٹی سی ایک امید باندھ لیجیے
محبتوں کا ا
گر جنازہ نکالنا ہے

71

Download Image

کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

55

Download Image

تری در سے جب اٹھ کے جانا پڑےگا
خود اپنا جنازہ اٹھانا پڑےگا

35

Download Image

میرا جنازہ روز اٹھتا ہے کہ اب
شمشان ہے وہ ہے وہ دو نوکری کوئی مجھے

8

Download Image

ہے وہ ہے وہ اب مر چکا ہوں مبارک ہوں سب کو
جنازہ میرا اب اٹھاؤ تو کوئی

5

Download Image

کوئی تو مری مکان ہے وہ ہے وہ سر تنہا کا ہوں ساتھی
کوئی یہ خبر ق
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے کہ جنازہ اٹھ رہا ہے

4

Download Image

خواہشوں کا جنازہ اٹھا رکھا ہے
تیرا غم اب بھی دل سے لگا رکھا ہے

خود سے بھی خود کو ٹھکرایا ہے پیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خود کو بھی خود کا دشمن بنا رکھا ہے

3

Download Image

فرق اتنا سا پڑا ہے آپ کے جانے سے مجھ کو
ہر جنازہ جو دیکھے حقیقت سوچ کر لگتا ہے اپنا

3

Download Image

پھروں سے ارمان کوئی قتل ہوا ہے میرا
خوشی آئی ہیں مری غسل جنازہ کرنے

2

Download Image

بے پناہ یہ زندگی ایسا تماشا کر رہی ہے
ہم لگ جی سکتے لگ یہ کافر جنازہ کر رہی ہے

2

Download Image

کسی سے چھوٹی سی ایک امید باندھ لیجیے
محبتوں کا ا
گر جنازہ نکالنا ہے

71

Download Image

لفظ 'جنازہ' جنازے کی سنجیدہ اور غمگین فضا کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ زندگی کی آخری حقیقت، خاموش وقارِ رخصت، اور برادری کے اجتماعی غم کی علامت ہوتا ہے۔ یہ تصویر نقصان کے بوجھ اور موت کی ناگزیریت سے بھری ہوتی ہے۔

شاعر اکثر 'جنازہ' کا استعمال موت اور زندگی کی عارضیت کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ وقت کی خاموشی سے گزرنے والی راہ، وہ ناگزیر سفر جو ہم سب کو کرنا ہے، اور غم کے مشترکہ انسانی تجربے کو ظاہر کر سکتا ہے۔

'جنازہ' اپنی خاموش وقار میں، زندگی اور موت کے مشترکہ سفر کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ہماری اجتماعی انسانیت کی ایک دلگداز علامت ہے۔