Meaning of

زوال

jawaal • जवाल

زوال; پستی; غروب

decline; downfall; sunset

पतन; अवनति; सूर्यास्त

Arabic

آیا ہی نہیں ہے ا
سے کا تو مجھے خیال تک
روح کو بچا کے رکھنا ہے مجھے زوال تک

جھوٹ بولنے پہ ہم سے تو سوال بھی ہوا
ا
سے نے قتل بھی کیا ہوا نہیں نڈھال تک

0

Download Image

ایسے حالات سے مجبور بشر دیکھے ہیں
اصل کیا سود ہے وہ ہے وہ بکتے ہوئے گھر دیکھے ہیں

ہم نے دیکھا ہے وضعدار گھرانوں کا زوال
ہم نے سڑکوں پہ کئی شاہ وقار دیکھے ہے

54

Download Image

ا
سے دل کا آخری ہے ب
سے حقیقت خیال ہوں جاناں
حل ہوں لگ پایا جو مجھ سے حقیقت سوال ہوں جاناں

جانے کے بعد تیری خواہش نہیں ہے کوئی
ا
سے دل کا آخری جو ہے حقیقت زوال ہوں جاناں

11

Download Image

حالت کو ا
سے کی دیکھ پرندے نہیں اڑے
کونا پھٹا ہوا تھا شکاری کے جال کا

الزام یوں تو رکھ دیا ہر عین غین پر
خود ہے وہ ہے وہ ہی ذمہ دار تھا اپنے زوال کا

6

Download Image

خیالوں ہے وہ ہے وہ نظاروں ہے وہ ہے وہ کتابوں ہے وہ ہے وہ سوالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کہ مجھ کو یاد آئی جاناں سفر کے ان زوالوں ہے وہ ہے وہ

2

Download Image

بیٹھا ہے کیوں ادا
سے تو چل ہیں ہم
آؤ سکون چین کے پل ہیں ہم

ہم نے سنا ہے یار اداسی زوال ہے
مل کر کے ا
سے زوال حل ہیں ہم

2

Download Image

زندگی مستقل وبال رہی
ہر گھڑی تھی زوال کی صورت

1

Download Image

گر یہی ہے عروج میرا تو
اے خدا پھروں زوال اچھا ہے

1

Download Image

ہے ترا ہی خیال تو مجھ کو
ہے ترا ہی زوال تو مجھ کو

1

Download Image

ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں کے ہے وہ ہے وہ ک
سے مقام پر ہوں کھڑا
مری عروض سے پہلے میرا زوال ہوا

0

Download Image

آیا ہی نہیں ہے ا
سے کا تو مجھے خیال تک
روح کو بچا کے رکھنا ہے مجھے زوال تک

جھوٹ بولنے پہ ہم سے تو سوال بھی ہوا
ا
سے نے قتل بھی کیا ہوا نہیں نڈھال تک

0

Download Image

ایسے حالات سے مجبور بشر دیکھے ہیں
اصل کیا سود ہے وہ ہے وہ بکتے ہوئے گھر دیکھے ہیں

ہم نے دیکھا ہے وضعدار گھرانوں کا زوال
ہم نے سڑکوں پہ کئی شاہ وقار دیکھے ہے

54

Download Image

زوال لفظ اس ناگزیر پستی کی بات کرتا ہے جس کا سامنا ہر چیز کو کرنا پڑتا ہے۔ شاعری میں یہ اکثر ایک دور کے خاتمے، روشنی کے مدھم ہونے، یا قسمت کے کمزور ہونے کی علامت ہوتا ہے، جو ایک قسم کی یاد اور غور و فکر کو دعوت دیتا ہے۔

وقت کے گزرنے اور عظمت کے زوال کو ظاہر کرنے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ شاعر اس کا استعمال ذاتی یا معاشرتی زوال پر غور کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔

زوال اختتام کی دردناک خوبصورتی کو سموئے ہوئے ہے، ہمیں زندگی کے دائروں پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔