Meaning of

پوچھوں

juz • जुज़

حصہ; جز

part; portion

भाग; अंश

Arabic

یہ جبر بھی دیکھا ہے پوچھوں کی دی نے
لمحوں نے غلطیاں کی تھی صدیوں نے سزا پائی

22

Download Image

پوچھوں آ گئی ہے ادھر کارڈ چھپ گئے
اب کب کہے گی تجھ کو حقیقت لڑکا نہیں پسند

79

Download Image

ہے وہ ہے وہ ک
سے سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط
ج
ہاں سے کوئی گزرتا نہیں و
ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ

62

Download Image

سمے بدلےگا تو ا
سے بار ہے وہ ہے وہ پوچھوں گا اسے
جاناں بدلتے ہوں تو کیوں لوگ بدل جاتے ہیں

41

Download Image

کاش ہے وہ ہے وہ پوچھوں کبھی میٹھے ہے وہ ہے وہ کیا ہے
حقیقت بنا اپائے کہے لو ہونٹ مری

39

Download Image

یکم جنوری ہے نیا سال ہے
دسمبر ہے وہ ہے وہ پوچھوں گا کیا حال ہے

38

Download Image

کوزہ گر مل گیا تو تو پوچھوں گا
مری مٹی ک
ہاں سے لایا تھا

34

Download Image

ہے خوشی انتظار کی ہر دم
ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ کیوں پوچھوں کب ملیںگے آپ

33

Download Image

بجز خدا کے کسی کا ہم پہ کرم نہیں ہے یہ کم نہیں ہے
کسی کا سجدہ جبیں پہ اپنی رقم نہیں ہے یہ کم نہیں ہے

ہماری چپپی یہ ہے غنیمت وگر
لگ یہ جو کیا ہے جاناں نے
یقین مانو ہمارا ماتھا گرم نہیں ہے یہ کم نہیں ہے

30

Download Image

کورٹ ہے وہ ہے وہ پوچھوں کے یہ سلسلے چلتے رہے
اور حقیقت لڑکی و
ہاں پر شرم سے ہی مر گئی

28

Download Image

یہ جبر بھی دیکھا ہے پوچھوں کی دی نے
لمحوں نے غلطیاں کی تھی صدیوں نے سزا پائی

22

Download Image

پوچھوں آ گئی ہے ادھر کارڈ چھپ گئے
اب کب کہے گی تجھ کو حقیقت لڑکا نہیں پسند

79

Download Image

اپنی اصل میں، 'جز' ایک مکمل کا ٹکڑا ہے، ایک ایسا حصہ جو بڑے ڈھانچے میں حصہ ڈالتا ہے۔ یہ تقسیم اور اتحاد کے خیال کو مجسم کرتا ہے، جہاں ہر حصہ اہمیت رکھتا ہے۔

شاعر 'جز' کا استعمال ٹوٹ پھوٹ اور مکملیت کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ انسانی حالت کی عکاسی کر سکتا ہے، جہاں افراد ایک بڑے معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں، یا روح کا سفر جو تکمیل کی تلاش میں ہوتا ہے۔

شاعری میں، 'جز' ہمیں حصوں کی خوبصورتی اور مکملیت کی تلاش کی یاد دلاتا ہے۔