Meaning of

خمار

khumaar • ख़ुमार

خمار; نشہ

intoxication; trance

मदहोशी; नशा

Arabic

چل دیا پلٹ کے ہے وہ ہے وہ گھر خمار باقی ہے
کچھ سدھار ہے مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ سدھار باقی ہے

ساتھ جو مری تھا ہے وہ ہے وہ قرض دار سبکا ہوں
شکر ہے خدا مجھ
پہ اک ادھار باقی ہے

2

Download Image

یہ کیسا نشہ ہے ہے وہ ہے وہ ک
سے غضب خمار ہے وہ ہے وہ ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے ہے وہ ہے وہ انتظار ہے وہ ہے وہ ہوں

43

Download Image

بخشی ہیں ہم کو عشق نے حقیقت جرأتیں لذت صدخمار
ڈرتے نہیں سیاست اہل ج
ہاں سے ہم

32

Download Image

سچ تو یہ ہے لذت صدخمار کی دنیا
حسن اور عشق کے سوا کیا ہے

31

Download Image

تیشے بغیر مر لگ سکا کوہکن سرسری
سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا

13

Download Image

خماری ا
سے دودمان تیری دماغ و دل پہ تاری ہے
کہ تری نام کے ہر نام کو ریکویسٹ بھیجی ہے

3

Download Image

بے حیائی رہے قبر ہے وہ ہے وہ لوگ سارے
جنہیں بندگی کی خماری نہیں تھی

3

Download Image

ایسے بھی لوگ ہیں ی
ہاں جو اپنے نام سے
محفل ہے وہ ہے وہ پڑھ کے آ گئے مقطع لذت صدخمار کا

2

Download Image

شرابوں سے خماری آ رہی ہے
نشہ تیرا اترتا جا رہا ہے

2

Download Image

عشق ہے وہ ہے وہ کیسے یہ جان واری گئی
پھروں مری سر سے کیسے خماری گئی

2

Download Image

چل دیا پلٹ کے ہے وہ ہے وہ گھر خمار باقی ہے
کچھ سدھار ہے مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ سدھار باقی ہے

ساتھ جو مری تھا ہے وہ ہے وہ قرض دار سبکا ہوں
شکر ہے خدا مجھ
پہ اک ادھار باقی ہے

2

Download Image

یہ کیسا نشہ ہے ہے وہ ہے وہ ک
سے غضب خمار ہے وہ ہے وہ ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے ہے وہ ہے وہ انتظار ہے وہ ہے وہ ہوں

43

Download Image

خمار کا لفظ ایک خوشگوار نشے کی کیفیت کا اشارہ دیتا ہے، جہاں حقیقت خواب جیسی دھند میں بدل جاتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر محبت کی دلکش کشش یا حسن کے مسحور کن اثر کا علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'خمار' کا استعمال محبت کے نشے آور اثرات، جذبے کے میٹھے سپردگی، یا حسن سے پیدا ہونے والی خوابیدہ کیفیت کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر حقیقت کی سختی کے برعکس ہوتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'خمار' خوابوں کی نرم آغوش کا گلے لگانا ہے۔ یہ دل کی نرم سرگوشی ہے جو سحر میں کھو گیا ہے۔