Meaning of

کوہکن

kohkan • कोहकन

پہاڑ کھودنے والا; کوہ تراشنے والا

mountain digger; one who carves mountains

पहाड़ खोदने वाला; पर्वत तराशने वाला

Persian

ہے وہی کشتی پرانی ہے وہی دریا میرا
جس پہ تو آنے نہ پایا ہے وہی رستہ میرا

میں مری مصروفیت سے تنگ آ جاتا ہوں دوست
مجھ کو سینے سے لگا کے وقت کر ضائع میرا

اپنی وحشت کا تقاضا ڈھونڈتا ہوں در بدر
لے گیا ہے کوہکن جس روز سے تیشہ میرا

یاد کر कूचा-नवर्दी,یاد کر الفت کے دن
یاد کر باتیں میری اور یاد کر چہرہ میرا

جب ہوائیں تھک گئیں تھیں کوششیں کر دشت میں
ریت تب رقصاں ہوئی تھی چوم کر سایہ میرا

بارشوں کو موسموں کا کھیل سب کہتے ہیں پر
رو پڑے تھے موتی جان کر قصہ میرا

آنکھ وہ ہنستی رہی تو کھیل اٹھے سوکھے گلاب
آنکھ وہ رونے لگی تو رو پڑا صحرا میرا

خسروان شہر میں ہو جاؤں گا اک لمس سے
اور فقط اک دید سے بھر جائےگا کاسا میرا

میں کتابوں کے جہاں کا ایک خوش قسمت کتاب
ناو بچوں نے بنایا پھاڑ کر صفحہ میرا

اس نظر کو خواہشوں کا شوق دے میرا خیال
اس جبیں کو روشنی دیتا رہے بوسہ میرا

میں مسلسل بند کرتا ہوں مگر پھروں دم ب دم
یاد اس کی کھولتی جاتی ہے دروازہ میرا

0

Download Image

دیکھا لگ کوہکن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

38

Download Image

تیشے بغیر مر لگ سکا کوہکن سرسری
سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا

13

Download Image

آدھا ادھورا چھوڑا جو فرہاد نے
حقیقت کوہکن ماجھی نے ہی پورا کیا

1

Download Image

کوہکن سا مر جاتا بات سن کے تو ساحر
تجھ کو کیوں ضرورت ہے پھروں کوئی جدائی کی

1

Download Image

ہے وہی کشتی پرانی ہے وہی دریا میرا
جس پہ تو آنے نہ پایا ہے وہی رستہ میرا

میں مری مصروفیت سے تنگ آ جاتا ہوں دوست
مجھ کو سینے سے لگا کے وقت کر ضائع میرا

اپنی وحشت کا تقاضا ڈھونڈتا ہوں در بدر
لے گیا ہے کوہکن جس روز سے تیشہ میرا

یاد کر कूचा-नवर्दी,یاد کر الفت کے دن
یاد کر باتیں میری اور یاد کر چہرہ میرا

جب ہوائیں تھک گئیں تھیں کوششیں کر دشت میں
ریت تب رقصاں ہوئی تھی چوم کر سایہ میرا

بارشوں کو موسموں کا کھیل سب کہتے ہیں پر
رو پڑے تھے موتی جان کر قصہ میرا

آنکھ وہ ہنستی رہی تو کھیل اٹھے سوکھے گلاب
آنکھ وہ رونے لگی تو رو پڑا صحرا میرا

خسروان شہر میں ہو جاؤں گا اک لمس سے
اور فقط اک دید سے بھر جائےگا کاسا میرا

میں کتابوں کے جہاں کا ایک خوش قسمت کتاب
ناو بچوں نے بنایا پھاڑ کر صفحہ میرا

اس نظر کو خواہشوں کا شوق دے میرا خیال
اس جبیں کو روشنی دیتا رہے بوسہ میرا

میں مسلسل بند کرتا ہوں مگر پھروں دم ب دم
یاد اس کی کھولتی جاتی ہے دروازہ میرا

0

Download Image

دیکھا لگ کوہکن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

38

Download Image

کوہکن کا لفظ ایک مستقل اور پُرعزم شخصیت کی تصویر پیش کرتا ہے، جو پہاڑوں کو تراشنے کے چیلنج کا سامنا کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ اکثر استقامت اور انسانی روح کی بڑی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی صلاحیت کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'کوہکن' کا استعمال ناقابل تسخیر مشکلات کے خلاف جدوجہد کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کی راہ میں عاشق کی آزمائشوں کا استعارہ ہے۔ یہ لفظ آرام اور آسانی کے برعکس ہے، مشکل سفر کو اجاگر کرتا ہے۔

کوہکن استقامت اور عزم کی روح کو مجسم کرتا ہے، انسانی ارادے کی طاقت کا ثبوت ہے۔