Meaning of

مجھدار

majhdaar • मझदार

دریا کا وسط; غیر یقینی یا عبوری حالت

midstream; middle of a river; metaphorically, a state of uncertainty or transition

नदी का मध्य; अनिश्चितता या संक्रमण की स्थिति

Persian

ہر بار ہی لاچار بنے کون سمجھتا
کب کیسے ہر اک بار بنے کون سمجھتا

سچ پہلے پہل بولا نہیں ہم نے کسی سے
آخر ہے وہ ہے وہ سمجھدار بنے کون سمجھتا

2

Download Image

کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے
آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں

77

Download Image

میرا کردار میری بات کہاں سنتا ہے
یہ سمجھدار میری بات کہاں سنتا ہے
عشق ہے وعدہ فراموش نہیں ہے کوئی
دل طلبگار میری بات کہاں سنتا ہے

66

Download Image

محبت ہے وہ ہے وہ سمجھداری سے 9 کام لیتے ہیں
کہیں محبوب حقیقت کہتے کہیں حقیقت نام لیتے ہیں

مچلتا ہے کبھی جو دل کریں باتیں نگاہوں سے
اجازت دھڑکنے دیتیں حقیقت دل کو تھام لیتے ہیں

56

Download Image

میرا کردار مری بات ک
ہاں سنتا ہے
یہ سمجھدار مری بات ک
ہاں سنتا ہے
عشق ہے وعدہ فراموش نہیں ہے کوئی
دل طلبگار مری بات ک
ہاں سنتا ہے

46

Download Image

تجھے مری محبت پہ اعتبار ہوں جانا
ممکن نہیں ہے گدھے کا سمجھدار ہوں جانا

33

Download Image

مری کوشش تو یہی ہے کہ یہ معصوم رہے
اور دل ہے کہ سمجھدار ہوا جاتا ہے

32

Download Image

پیار ہے وہ ہے وہ تری کیا خبر تجھ کو
اک سمجھدار کتنا پاگل تھا

3

Download Image

ہٹا سایہ یوں سر سے اپنوں کا مری
مجھے دی جام کی سب نے سمجھداری

2

Download Image

بڑے ہوں کر سمجھداری تو مجھ کو آ گئی لیکن
حقیقت لڑکا کھو گیا تو جو خوشبوؤں سے بات کرتا تھا

2

Download Image

ہر بار ہی لاچار بنے کون سمجھتا
کب کیسے ہر اک بار بنے کون سمجھتا

سچ پہلے پہل بولا نہیں ہم نے کسی سے
آخر ہے وہ ہے وہ سمجھدار بنے کون سمجھتا

2

Download Image

کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے
آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں

77

Download Image

مجھدار کا لفظ دریا کے وسط میں ہونے کی تصویر پیش کرتا ہے، جہاں چاروں طرف پانی کا بہاؤ ہوتا ہے، جو غیر یقینی یا عبوری حالت کی علامت ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر جذباتی یا وجودیاتی مخمصوں کی علامت ہوتا ہے، جہاں انسان فیصلوں یا راستوں کے درمیان پھنسا ہوتا ہے۔

شاعر اکثر مجھدار کا استعمال فیصلہ نہ کر پانے یا جذباتی ہلچل کے لمحات کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے سفر کی علامت ہو سکتا ہے، جہاں انسان نہ تو ابتدا میں ہوتا ہے اور نہ ہی انتہا میں، بلکہ مسلسل بننے کی حالت میں ہوتا ہے۔

مجھدار زندگی کی غیر یقینیوں کا جوہر پیش کرتا ہے، ہمارے سفر کی روانی اور غیر متوقعی کی یاد دلاتا ہے۔