Meaning of

دم دار

matla • मतला

غزل کا پہلا شعر; آغاز

opening couplet of a ghazal; beginning

ग़ज़ल का पहला शेर; आरंभ

Arabic

تو نے بے حد خراب کیا ہے مجھے م
گر
ا
سے شعر ہے وہ ہے وہ خراب کا زار کچھ اور ہے

47

Download Image

مری نام سے کیا زار ہے تمہیں مٹ جائےگا یا رہ جاتا ہے
جب جاناں نے ہی ساتھ نہیں رہنا پھروں پیچھے کیا رہ جاتا ہے

مری پا
سے آنے تک اور کسی کی یاد اسے کھا جاتی ہے
حقیقت مجھ تک کم ہی پہنچتا ہے کسی اور جگہ رہ جاتا ہے

214

Download Image

کورے کاغذ پر رو رہے ہوں جاناں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سمجھا معیار لکھے ہوں جاناں

کیا کہا مجھ سے دور جانا ہے
ا
سے زار ہے جا چکے ہوں جاناں

114

Download Image

مجھ کو ا
سے لفظ کا زار نہیں معلوم م
گر
آپ کی ہمم نے مجھے سوچ ہے وہ ہے وہ ڈالا ہوا ہے

84

Download Image

حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا
سے سے مجھ کو زار تھا
آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے

79

Download Image

ج
ہاں تک مجھ سے زار ہے ج
ہاں کو
وہی تک مجھ کو پوچھا جا رہا ہے

زمانے پر بھروسا کرنے والوں
بھروسے کا زما
لگ جا رہا ہے

70

Download Image

اب ہے وہ ہے وہ سمجھا تری رخسار پہ تل کا زار
دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے

66

Download Image

جب چاہیں سو جاتے تھے ہم جاناں سے باتیں کر کے تب
الٹی گنتی گننے سے بھی نیند نہیں آتی ہے اب
عشق محبت پر تاکتے کے شعر سنائے اس کا کو جب
پہلے تھوڑا شرمائی حقیقت پھروں بولی ا
سے زار

58

Download Image

سب کو ب
سے پانی پینے سے زار ہے
ب
سے ماں کو چنتا ہے مٹکا بھرنے کی

48

Download Image

مجھ کو ا
سے کی نظرے اپنے چہرے پر محسو
سے ہوئی
ا
سے زار ا
سے نے مری تصویرو کو دیکھا ہیں

47

Download Image

تو نے بے حد خراب کیا ہے مجھے م
گر
ا
سے شعر ہے وہ ہے وہ خراب کا زار کچھ اور ہے

47

Download Image

مری نام سے کیا زار ہے تمہیں مٹ جائےگا یا رہ جاتا ہے
جب جاناں نے ہی ساتھ نہیں رہنا پھروں پیچھے کیا رہ جاتا ہے

مری پا
سے آنے تک اور کسی کی یاد اسے کھا جاتی ہے
حقیقت مجھ تک کم ہی پہنچتا ہے کسی اور جگہ رہ جاتا ہے

214

Download Image

مطلع غزل کا دروازہ ہے، جو آنے والے اشعار کے لیے لہجہ اور موضوع طے کرتا ہے۔ یہ شاعرانہ سفر کا وعدہ کرتا ہے، قاری کو جذبات اور غور و فکر کی دنیا میں مدعو کرتا ہے۔

شاعر 'مطلع' کو احتیاط سے تخلیق کرتے ہیں، کیونکہ یہ دلکش اور پراسرار ہونا چاہیے۔ یہ اکثر غزل کے مرکزی موضوع یا جذباتی مرکز کی طرف اشارہ کرتا ہے، قاری کو اس کی گہرائی میں کھینچتا ہے۔

مطلع شاعرانہ دعوت ہے، جو آنے والے الفاظ کی سمفنی کا پیش خیمہ ہے۔