Meaning of

مفلسوں

muflison • मुफ़्लिसों

غریب لوگ; مفلس

poor people; the destitute

गरीब लोग; निर्धन

Arabic

خود کو ہے وہ ہے وہ ایسا بنانا چاہتا ہوں
مفلسوں کے کام آنا چاہتا ہوں

نفرتوں کا دور ہے لیکن مہودے
پریم کا ہے وہ ہے وہ گیت گانا چاہتا ہوں

0

Download Image

مفلسوں کو ک
ہاں میسر ہے
شرط دولت ہے دوستی کے لیے

6

Download Image

تپتا سورج آجکل کسی کو نہیں چاہیے
سبھی کو ہمیشہ چاند کی چاندنی چاہیے

مفلسوں سے رشتہ اب رکھتا نہیں کوئی
سب کو ساتھ ہے وہ ہے وہ آدمی خاندانی چاہیے

2

Download Image

یہ لگ سوچو کہ مجھ کو خبر ہے نہیں
سیٹھ کی مفلسوں پر نظر ہے نہیں

حال خستہ ہمارا ی
ہاں دیکھیے
گاؤں میرا بڑا سا شہر ہے نہیں

1

Download Image

مری معبود کچھ تری مسلماناں
صفوں ہے وہ ہے وہ دن بہ دن جو بڑھ رہے ہیں

غریب و مفلسوں کا حق دبا کر
نماز با جماعت پڑھ رہے ہیں

1

Download Image

کون ملنا چاہتا ہے مفلسوں سے
کون بے زار کے یہ جوخیم اٹھائے

1

Download Image

بھروسا اٹھ گیا تو میرا سخن سنجی دیوانوں سے
مجھے اب داد بھی ملتی نہیں ہے دودمان دانوں سے

ہوا ہے جب سے اٹھنا بیٹھنا یاں مفلسوں کے ساتھ
صدا مجھ کو کوئی دیتا نہیں اونچے مکانوں سے

0

Download Image

خود کو ہے وہ ہے وہ ایسا بنانا چاہتا ہوں
مفلسوں کے کام آنا چاہتا ہوں

نفرتوں کا دور ہے لیکن مہودے
پریم کا ہے وہ ہے وہ گیت گانا چاہتا ہوں

0

Download Image

مفلسوں کو ک
ہاں میسر ہے
شرط دولت ہے دوستی کے لیے

6

Download Image

یہ لفظ ان لوگوں کی جدوجہد اور مشکلات کو اجاگر کرتا ہے جو غربت میں ہیں۔ شاعری میں، یہ اکثر لچک اور مشکلات کے باوجود برداشت کرنے کی انسانی روح کی صلاحیت کی علامت ہے۔

شاعر اس لفظ کا استعمال سماجی ناانصافیوں اور پسماندہ لوگوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اتحاد میں پائی جانے والی طاقت اور مشترکہ انسانی تجربے کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔

شاعری کے تانے بانے میں، 'مفلسوں' زندگی کی آزمائشوں کے درمیان برداشت اور امید کی کہانی بُنتا ہے۔