Meaning of

مراد

muraad • मुराद

خواہش; آرزو; مقصد

desire; wish; goal

इच्छा; कामना; लक्ष्य

Arabic

نت بڑے عرصے بعد ہوئی ہے
اب پوری اک مراد ہوئی ہے

1

Download Image

بادباں ناز سے لہرا کے چلی باد مراد
کارواں عید منا قافلہ سالار آیا

11

Download Image

شہر مراد سے درد رونق تو بھلا کب تک سنائے گا
جدا ہوکر اسی کی یاد ہے وہ ہے وہ خود کو جلائے گا

4

Download Image

ہے وہ ہے وہ غم ڈھیروں محبت کے خزانے سے چرا آیا
جو پوری ہوں نہیں سکتی مرادیں حقیقت اٹھا آیا

الہی ہوں گئی کیسے بتا مجھ سے غلطیاں ایسی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ راہیں تو سجا آیا م
گر منزل بھلا آیا

3

Download Image

مراد پاتا ہے چاہے کسی بھی دھرم کا ہوں
تمہارے در سے زمانے کو پیار ملتا ہے

ی
ہاں سبھی کی یوں ہی قبول ہوتی ہیں
ی
ہاں دلوں کو سکون اور قرار ملتا ہے

3

Download Image

جاناں چنو نامراد کی سنتا رہا ہے حقیقت
ج
سے نے نہیں سنی کبھی اپنی بھی آج تک

3

Download Image

قسمت والوں کی ہوتی ہے مراد پوری
یہ لازمی تو نہیں کہ سب قسمت والے ہوں

2

Download Image

آ
سماں کے ٹوٹتے تارو سے مت مانگو مرادے
حوصلہ دو جاناں اسے حقیقت جھلمیلانا ہارا ہوگا

2

Download Image

مجھے جاناں نیا زخم دے دو مری جاں
بڑے دن سے کوئی شہر مراد نہیں ہوئی ہے

1

Download Image

مجھے کیا مراد وجود و عدم
فسا
لگ ی
ہاں کا یہیں رہ گیا تو

1

Download Image

نت بڑے عرصے بعد ہوئی ہے
اب پوری اک مراد ہوئی ہے

1

Download Image

بادباں ناز سے لہرا کے چلی باد مراد
کارواں عید منا قافلہ سالار آیا

11

Download Image

'مراد' ایک گہری خواہش یا آرزو کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر دل کی تڑپ یا روح کی تکمیل کی جستجو کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو تڑپ اور خوابوں کی تلاش کے جوہر کو پکڑتا ہے۔

شاعر 'مراد' کا استعمال تڑپ کی شدت اور اپنی گہری خواہشات کی تلاش کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر ان اشعار میں بُنا جاتا ہے جو محبت، خواہش اور اپنے خوابوں کی بے لگام تلاش کی بات کرتے ہیں۔

شاعری کی دنیا میں، 'مراد' آرزو کی دھڑکن ہے۔ یہ خواہش اور تقدیر کے درمیان ابدی رقص کو سمیٹے ہوئے ہے۔