Meaning of

نقش دو عالم

naqsh-e-do-aalam • नक़्श-ए-दो-आलम

دو عالم کی چھاپ; وجود کا جوہر

imprint of the two worlds; essence of existence

दोनों दुनियाओं की छाप; अस्तित्व का सार

Persian

یہ لفظ اصل میں مادی اور روحانی دونوں جہانوں کے چھوڑے ہوئے نشان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ محسوس اور غیر محسوس کے درمیان گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے، جو وحدت کی ایک گہری کیفیت کو پیش کرتا ہے۔

شاعر اکثر اس فقرے کو دوئی اور وحدت کے موضوعات کی تلاش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ دنیاوی خواہشات اور روحانی امنگوں کے درمیان جدوجہد کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ وجود پر شاعر کے غور و فکر کو بھی ظاہر کر سکتا ہے۔

نقش دو عالم ہمیں دیکھے اور ان دیکھے کے درمیان نازک توازن پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت کی سرگوشی کرتا ہے جو گہری بھی ہے اور پراسرار بھی۔