Meaning of

نظیر

nazeer • नज़ीर

مثال; نمونہ

example; model

उदाहरण; आदर्श

Arabic

جیتنے کی نذیر پیش کروں
کھیل ہے وہ ہے وہ اب وزیر پیش کروں

0

Download Image

ہے دسہرے ہے وہ ہے وہ بھی یوں گر فرحت و زینت نذیر
پر دیوالی بھی غضب پاکیزہ تر تہوار ہے

20

Download Image

والد نے کندھے پر مری کیا ہاتھ رکھ دیا
اور چار چاند لگ گئے تب سے نظیر و ہے وہ ہے وہ

3

Download Image

ب نظیر کا قصہ تھا سنا زمانے نے
اب نئے زمانے ہے وہ ہے وہ بات حقیقت نہیں یارا

3

Download Image

ہاتھ ماں باپ کا رہے سر پر
اس کا کا کو عزت نظیر و ملتا ہے

لوگ حقیقت خوش نصیب ہوتے ہیں
جن کو ہن
گرا کا پیار ملتا ہے

3

Download Image

جھوٹے لوگوں سے ہم کو خوبصورت ہے
جو کہے سچ حقیقت یار پیارا ہے

جان جاتی ہے تو چلی جائے
ہم کو جاں سے نظیر و پیارا ہے

3

Download Image

حصے ہے وہ ہے وہ مری دوسرا دریا نہیں ا
گر
پھروں تو نذیر ہوں گی سمندر کا سوکھنا

0

Download Image

حقیقت سر ہی کیا جس کا نہیں کوئی نظیر و
پیروں سے چلنا کوئی جینا تھوڑی ہے

0

Download Image

جیتنے کی نذیر پیش کروں
کھیل ہے وہ ہے وہ اب وزیر پیش کروں

0

Download Image

ہے دسہرے ہے وہ ہے وہ بھی یوں گر فرحت و زینت نذیر
پر دیوالی بھی غضب پاکیزہ تر تہوار ہے

20

Download Image

نظیر کا لفظ ایک مثالی یا نمونہ کی نشاندہی کرتا ہے، جو اکثر کسی ایسے شخص یا چیز کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ایک معیار قائم کرتا ہے۔ یہ مثالی اور خواہش کا بوجھ اٹھاتا ہے، عمدگی کے معیار کا اشارہ دیتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر کمال کی تلاش اور بہترین کی تقلید کی خواہش کو سموئے ہوئے ہے۔

شاعر 'نظیر' کا استعمال مثالی اور معیارات کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا استعمال اکثر کسی شخص یا چیز کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جو کمال کو سموئے ہوئے ہے یا ایک رہنمائی روشنی کے طور پر کام کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'نظیر' خواہش کا ایک مینار ہے۔ یہ ہمیں ان مثالیات کی یاد دلاتا ہے جن کے لیے ہم کوشش کرتے ہیں اور ان معیارات کو جنہیں ہم برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔