Meaning of

نکاح

nikaah • निकाह

نکاح; شادی

marriage; wedding

विवाह; शादी

Arabic

شاعری کرنی ہے تو عشق کروں
بھول سے بھی نکاح مت کرنا

1

Download Image

تجھ کو بھی ہوں عطا کسی بچھڑن کا سبز زخم
ج
سے سے تیرا نکاح ہوں مر جائے ایسا بے وجہ

7

Download Image

اب سہا نہیں جاتا اگلے تنخواہ کرنا ہے
جاں سنو نہ مجھ کو تم سے نکاح کرنا ہے

5

Download Image

وصل ہجر وعدے سب اک آہ ہے وہ ہے وہ شریک تھے
ہم کسی کی محفل اے نکاح ہے وہ ہے وہ شریک تھے

3

Download Image

مجھے نصیب کے چکر ہے وہ ہے وہ ڈال کر ا
سے نے
نکاح کر لیا سرکار کے ملازم سے

3

Download Image

خدا کرے لگ کرے یاد حقیقت کبھی مجھ کو
خدا کرے ہے وہ ہے وہ اسے یاد عمر بھر آؤں

کہو جو جاناں کے نکاح کر رہی ہوں ہے وہ ہے وہ ا
سے سے
خدا کرے ہے وہ ہے وہ یہ سننے سے پہلے مر جاؤں

2

Download Image

قاف
یوں جاناں رازی ہوں جاؤ نکاح مجھ سے کرنے کو
تمہارے بابا مادر کو قسم سے ہے وہ ہے وہ منا لوں گا

1

Download Image

کیا تھا ہم نے عشق جاناں سے جاں کوئی نکاح تھوڑی تھا
نہیں تو دے دیتا سنین پہلے ہی طلاق جاناں کو جاں

1

Download Image

اسے نکاح کرنا تھا
مجھے ویواہ کرنا تھا

1

Download Image

تو مری دل ہے وہ ہے وہ ہے ا
سے کی مجھے خوشی ہے م
گر
مری نکاح ہے وہ ہے وہ جاناں ہوتے تو خوشی ہوتی

1

Download Image

شاعری کرنی ہے تو عشق کروں
بھول سے بھی نکاح مت کرنا

1

Download Image

تجھ کو بھی ہوں عطا کسی بچھڑن کا سبز زخم
ج
سے سے تیرا نکاح ہوں مر جائے ایسا بے وجہ

7

Download Image

'نکاح' کا لفظ شادی کے مقدس بندھن کو ظاہر کرتا ہے، جو صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو روحوں کا ملاپ ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر عزم، اتحاد اور مقدر کے ملاپ کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'نکاح' کا استعمال ابدی محبت اور عقیدت کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک نئے سفر کا آغاز یا طویل انتظار کے بعد ملاپ کا اختتام ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ سنجیدگی اور خوشی کا احساس رکھتا ہے۔

شاعرانہ دنیاؤں میں، 'نکاح' صرف ایک تقریب نہیں ہے؛ یہ خوابوں اور وعدوں کی ایک بُنت ہے۔