Meaning of

پیمان

paima • पैमा

پیمائش; پیمانہ; وعدہ

measure; scale; promise

माप; पैमाना; वादा

Persian

نیت سا
گر تڑپنے لگا پیا
سے سے
خوشی پیمانوں ہے وہ ہے وہ جب پگھل کر گیا تو

5

Download Image

تو بھی کب مری مطابق مجھے دکھ دے پایا
ک
سے نے بھرنا تھا یہ پیما
لگ ا
گر خالی تھا

ایک دکھ یہ کہ تو ملنے نہیں آیا مجھ سے
ایک دکھ یہ ہے ا
سے دن میرا گھر خالی تھا

162

Download Image

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے ہے وہ ہے وہ

48

Download Image

ا
پیش بیٹھے تھے پھروں بھی آنکھ ساقی کی پڑی ہم پر
ا
گر ہے تشنہ لبی کامل تو پیمانے بھی آئیں گے

27

Download Image

آتا ہے جی ہے وہ ہے وہ لب پیما
لگ پہ بار بار
لب چوم لوں ترا رکھ دل پسند چھوڑ کر

25

Download Image

فریب ساقی محفل لگ پوچھیے مجروح
شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے

22

Download Image

مجھے یہ فکر سب کی پیا
سے اپنی پیا
سے ہے ساقی
تجھے یہ ضد کہ خالی ہے میرا پیما
لگ برسوں سے

19

Download Image

محبت وہیں تک ہے سچی محبت
ج
ہاں تک کوئی عہد و پیمان نہیں ہے

17

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

گر چاہت کا کوئی پیما
لگ ہوتا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تیری چاہت کو ماپا ہوتا

8

Download Image

نیت سا
گر تڑپنے لگا پیا
سے سے
خوشی پیمانوں ہے وہ ہے وہ جب پگھل کر گیا تو

5

Download Image

تو بھی کب مری مطابق مجھے دکھ دے پایا
ک
سے نے بھرنا تھا یہ پیما
لگ ا
گر خالی تھا

ایک دکھ یہ کہ تو ملنے نہیں آیا مجھ سے
ایک دکھ یہ ہے ا
سے دن میرا گھر خالی تھا

162

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'پیمان' پیمائش کی عمل یا پیمانے کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ وعدوں اور عہدوں کے خیال تک پھیلتا ہے، اکثر الفاظ کے وزن اور کسی کے ارادوں کی گہرائی کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'پیمان' کا استعمال وعدوں کی سنجیدگی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ الفاظ کی پابند فطرت کی علامت ہو سکتا ہے۔ اکثر عارضی الفاظ کے برعکس، یہ مخلص وعدوں کے دیرپا اثر کو نمایاں کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'پیمان' وعدوں کی پائیدار طاقت اور الفاظ کے گہرے وزن کا ثبوت ہے۔