Meaning of

پریشاں

pareeshaan • परीशाँ

پریشان; مضطرب

disturbed; troubled

व्याकुल; परेशान

Persian

کوئی لڑکا پریشاں ہے کسی کا جسم پانے کو
کوئی لڑکا پریشاں ہے کسی کا پیار مل جائے

9

Download Image

پریشاں ہے حقیقت جھوٹا عشق کر کے
وفا کرنے کی نوبت آ گئی ہے

65

Download Image

نیند ا
سے کی ہے دماغ ا
سے کا ہے راتیں ا
سے کی ہیں
تیری زلفیں ج
سے کے بازو پر پریشاں ہوں گئیں

61

Download Image

جب بھی تری قربت کے کچھ امکان نظر آئی
ہم خوش ہوئے اتنے کہ پریشاں نظر آئی

38

Download Image

دل ہے پریشاں ان کی خاطر
پل بھر کو آرام نہیں ہے

28

Download Image

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہوں ہم تھے پریشاں جاناں سے زیادہ
چاک کیے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں جاناں سے زیادہ

28

Download Image

سگریٹ جسے سلگتا ہوا کوئی چھوڑ دے
ا
سے کا دھواں ہوں اور پریشاں دھواں ہوں ہے وہ ہے وہ

27

Download Image

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
کیا بتاؤں کہ مری دل ہے وہ ہے وہ ہے ارمان کیا کیا

22

Download Image

ہم اپنے حال پریشاں پہ بارہا روئے
اور ا
سے کے بعد ہنسی ہم کو بارہا آئی

15

Download Image

پریشاں سے جو آنسو شب سرہانے رکھ دیے تھے
سویرے پھروں بکھر کر آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھنے لگے ہیں

14

Download Image

کوئی لڑکا پریشاں ہے کسی کا جسم پانے کو
کوئی لڑکا پریشاں ہے کسی کا پیار مل جائے

9

Download Image

پریشاں ہے حقیقت جھوٹا عشق کر کے
وفا کرنے کی نوبت آ گئی ہے

65

Download Image

پریشاں کا لفظ اندرونی ہلچل کی حالت کو ظاہر کرتا ہے، ایک ایسا ذہن جو فکروں اور غیر یقینیوں سے گھرا ہوا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر بے چین دل کی علامت ہوتا ہے، جو خواہش یا وجودی اضطراب کے درمیان پھنسا ہوتا ہے۔

شاعر 'پریشاں' کا استعمال انسانی جذبات کی پیچیدگی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر اندرونی کشمکش کو ظاہر کرنے کے لیے طوفانوں یا متلاطم سمندروں کی تصویروں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

شاعری میں، 'پریشاں' روح کی بے چینی کا آئینہ ہے۔ یہ خواہش اور سکون کے درمیان عالمی جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے۔