Meaning of

پندار

pindaar • पिंदार

غرور; تکبر

pride; arrogance

गर्व; अहंकार

Persian

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو کرتا ہے تذلیل حیدر
ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر ہے اسے پندار لیکن

1

Download Image

یہ حقیقت ہے مضحکہ نہیں ہے
حقیقت بے حد دور ہے جدا نہیں ہے

تری ہونٹوں پہ رقص کرتا ہے
راز جو اب تلک کھلا نہیں ہے

جان اے جاں تری حسن کے آگے
یہ جو شیشہ ہے آئی
لگ نہیں ہے

کیوں شرابور ہوں پسینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بوسہ ابھی لیا نہیں ہے

ا
سے کا پندار بھی وہیں کا وہیں
مری لب پر بھی التجا نہیں ہے

جو بھی ہونا تھا ہوں چکا کاظم
اب کسی سے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ گلہ نہیں ہے

5

Download Image

کیوں ہماری یاد بھی اب یاد بنکر رہ گئی ہے
لاک ڈاؤن ہوں گیا تو ہے آپ کے پندار ہے وہ ہے وہ کیا

3

Download Image

مری پندار محبت کا تقاضا یہ ہے
تجھ کو چاہا بھی تو اوقات سے بڑھ کر چاہا

2

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو کرتا ہے تذلیل حیدر
ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر ہے اسے پندار لیکن

1

Download Image

یہ حقیقت ہے مضحکہ نہیں ہے
حقیقت بے حد دور ہے جدا نہیں ہے

تری ہونٹوں پہ رقص کرتا ہے
راز جو اب تلک کھلا نہیں ہے

جان اے جاں تری حسن کے آگے
یہ جو شیشہ ہے آئی
لگ نہیں ہے

کیوں شرابور ہوں پسینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بوسہ ابھی لیا نہیں ہے

ا
سے کا پندار بھی وہیں کا وہیں
مری لب پر بھی التجا نہیں ہے

جو بھی ہونا تھا ہوں چکا کاظم
اب کسی سے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ گلہ نہیں ہے

5

Download Image

پندار لفظ خود اعتمادی کی اس حد کو ظاہر کرتا ہے جہاں یہ تکبر میں بدل جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ خود کی قدر اور حد سے زیادہ خود اعتمادی کے درمیان اندرونی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے، جو انسانی غرور کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔

شاعر 'پندار' کا استعمال خود پسندی اور اعتماد و تکبر کے درمیان نازک توازن کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر عاجزی کے برعکس ہوتا ہے، اندرونی طاقت اور بیرونی تکبر کے درمیان تناؤ کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'پندار' انسانی غرور کی دوہری فطرت کو ظاہر کرنے والا آئینہ ہے۔ یہ ہمیں خود اعتمادی اور تکبر کے درمیان باریک لکیر کی یاد دلاتا ہے۔