Meaning of

رقصاں

raksaan • रक्साँ

رقص کرتا ہوا; جھومتا ہوا

dancing; swaying

नृत्यरत; झूमता हुआ

Persian

ہے وہی کشتی پرانی ہے وہی دریا میرا
جس پہ تو آنے نہ پایا ہے وہی رستہ میرا

میں مری مصروفیت سے تنگ آ جاتا ہوں دوست
مجھ کو سینے سے لگا کے وقت کر ضائع میرا

اپنی وحشت کا تقاضا ڈھونڈتا ہوں در بدر
لے گیا ہے کوہکن جس روز سے تیشہ میرا

یاد کر कूचा-नवर्दी,یاد کر الفت کے دن
یاد کر باتیں میری اور یاد کر چہرہ میرا

جب ہوائیں تھک گئیں تھیں کوششیں کر دشت میں
ریت تب رقصاں ہوئی تھی چوم کر سایہ میرا

بارشوں کو موسموں کا کھیل سب کہتے ہیں پر
رو پڑے تھے موتی جان کر قصہ میرا

آنکھ وہ ہنستی رہی تو کھیل اٹھے سوکھے گلاب
آنکھ وہ رونے لگی تو رو پڑا صحرا میرا

خسروان شہر میں ہو جاؤں گا اک لمس سے
اور فقط اک دید سے بھر جائےگا کاسا میرا

میں کتابوں کے جہاں کا ایک خوش قسمت کتاب
ناو بچوں نے بنایا پھاڑ کر صفحہ میرا

اس نظر کو خواہشوں کا شوق دے میرا خیال
اس جبیں کو روشنی دیتا رہے بوسہ میرا

میں مسلسل بند کرتا ہوں مگر پھروں دم ب دم
یاد اس کی کھولتی جاتی ہے دروازہ میرا

0

Download Image

آنکھیں غزال ہرنی ہیں زلف گھٹا ساون
پہاڑ پہ رقصاں کوئی بادل لگتی ہوں

11

Download Image

ہے وہی کشتی پرانی ہے وہی دریا میرا
جس پہ تو آنے نہ پایا ہے وہی رستہ میرا

میں مری مصروفیت سے تنگ آ جاتا ہوں دوست
مجھ کو سینے سے لگا کے وقت کر ضائع میرا

اپنی وحشت کا تقاضا ڈھونڈتا ہوں در بدر
لے گیا ہے کوہکن جس روز سے تیشہ میرا

یاد کر कूचा-नवर्दी,یاد کر الفت کے دن
یاد کر باتیں میری اور یاد کر چہرہ میرا

جب ہوائیں تھک گئیں تھیں کوششیں کر دشت میں
ریت تب رقصاں ہوئی تھی چوم کر سایہ میرا

بارشوں کو موسموں کا کھیل سب کہتے ہیں پر
رو پڑے تھے موتی جان کر قصہ میرا

آنکھ وہ ہنستی رہی تو کھیل اٹھے سوکھے گلاب
آنکھ وہ رونے لگی تو رو پڑا صحرا میرا

خسروان شہر میں ہو جاؤں گا اک لمس سے
اور فقط اک دید سے بھر جائےگا کاسا میرا

میں کتابوں کے جہاں کا ایک خوش قسمت کتاب
ناو بچوں نے بنایا پھاڑ کر صفحہ میرا

اس نظر کو خواہشوں کا شوق دے میرا خیال
اس جبیں کو روشنی دیتا رہے بوسہ میرا

میں مسلسل بند کرتا ہوں مگر پھروں دم ب دم
یاد اس کی کھولتی جاتی ہے دروازہ میرا

0

Download Image

آنکھیں غزال ہرنی ہیں زلف گھٹا ساون
پہاڑ پہ رقصاں کوئی بادل لگتی ہوں

11

Download Image

رقصاں لفظ خوبصورت حرکت کی تصویر پیش کرتا ہے، جو جسمانی اور استعاراتی دونوں ہے۔ شاعری میں، یہ زندگی کی تال، جذبات کی جھوم اور خیالات کے رقص کو بیان کرتا ہے جو دریا کی طرح بہتے ہیں۔

شاعر اکثر 'رقصاں' کا استعمال فطرت کے رقص، درختوں کی جھوم، یا فلکی اجسام کی حرکت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اندرونی ہلچل یا خوشی، محبت یا مایوسی میں دل کے رقص کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

اپنے شاعرانہ جوہر میں، 'رقصاں' وجود کے ابدی رقص کو مجسم کرتا ہے، جہاں ہر قدم ایک کہانی ہے، ہر جھوم کائنات کی سرگوشی۔