Meaning of

رضائی

razaaee • रज़ाई

رضائی; لحاف

quilt; comforter

रजाई; गद्देदार चादर

Persian

جو کہے محبوب ہر جائی ہے دوست
حقیقت محبت کا تماشائی ہے دوست

1

Download Image

ایسی سر
گرا ہے کہ سورج بھی دہائی مانگے
جو ہوں پردی
سے ہے وہ ہے وہ حقیقت کس سے رضائی مانگے

76

Download Image

دسمبر کی سر
گرا ہے ب
سے جاناں نہیں ہوں
اکیلی رضائی سے رکتی نہیں ٹھنڈ

6

Download Image

جاڑوں کی راتیں ا
سے پر بھی جاناں سے یہ جدائی
با
ہوں کی چھوڑو ہم کو حاصل نہیں رضائی

4

Download Image

رات کٹی نیند کی دوائی پر
خواب پڑے رہ گئے رضائی پر

اور کسی سے شا
گرا سوچی تو
مارا جائےگا حقیقت سگائی پر

4

Download Image

سائے کی طرح مری ساتھ ساتھ تھے لیکن
نکلے پھروں بھی ہر جائی جب بھی آزمائے خواب

4

Download Image

تیری غلطی تو ہی ا
سے پر مر بیٹھا
ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاتھ نہیں تھا ا
سے ہر جائی کا

2

Download Image

زہر خا
لگ پڑا جدائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
سر
گرا کٹتی نہیں رضائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

آخری بار یاد آئی تھی
اور شاید جون جولائی ہے وہ ہے وہ

1

Download Image

مول اتنا بھی نہیں دیتی ہے یہ
نوکری جتنا تھکایا کرتی ہے

ا
سے رضائی کو بتاؤں کیسے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
دھوپ آنگن ہے وہ ہے وہ بلایا کرتی ہے

1

Download Image

جو کہے محبوب ہر جائی ہے دوست
حقیقت محبت کا تماشائی ہے دوست

1

Download Image

ایسی سر
گرا ہے کہ سورج بھی دہائی مانگے
جو ہوں پردی
سے ہے وہ ہے وہ حقیقت کس سے رضائی مانگے

76

Download Image

رضائی کا اصل مطلب ایک لحاف ہے جو سرد راتوں میں گرمائش فراہم کرتا ہے۔ شاعری میں یہ لفظ حفاظت اور خیال کا استعارہ بن جاتا ہے، جو سکون بھرا احساس جگاتا ہے۔

شاعر اکثر 'رضائی' کا استعمال گرمائش اور قربت کے اظہار کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ماں کی گود یا محبوب کی موجودگی کی سکون بھری کیفیت کا استعارہ ہو سکتا ہے۔ یہ بیرونی دنیا کی سرد مہری کے برعکس پناہ اور تسلی کے موضوعات کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں 'رضائی' قاری کو گرمائش کے غلاف میں لپیٹ لیتی ہے، انسانی تعلقات میں ملنے والے سکون کی نرم یاد دلاتی ہے۔