Meaning of

رزق

rizq • रिज़्क़

روزی; معاش; رزق

sustenance; provision; livelihood

रोज़ी; जीविका; भरण-पोषण

Arabic

سفر ہے وہ ہے وہ کبھی ایسے منظر بھی آئی
کبھی پھول آئی تو پتھر بھی آئی

میسر نہیں ہوتا آسانی سے رزق
کہ بیماری ہے وہ ہے وہ ہم تو دفترون بھی آئی

0

Download Image

تیری آواز میرا رزق ہوا کرتی تھی
تو مجھے بھوک سے مارے گا یہ سوچا نہیں تھا

38

Download Image

تصویروں رزق کا زار کسان سے پوچھو
پسی
لگ بن کے بدن سے لہو نکلتا ہے

33

Download Image

اے طائر لاہوتی ا
سے رزق سے موت اچھی
ج
سے رزق سے آتی ہوں پرواز ہے وہ ہے وہ کوتاہی

26

Download Image

وحشت ہے مجھ کو لم
سے کے رزق حرام سے
مجھ کو مری نصیب کی روزی نہیں ملی

1

Download Image

خرچ کر دیں جسے حقیقت ہی دولت اصل رزق ہے
حقیقت نہیں ہے جسے آپ رکھتے تجوری ہے وہ ہے وہ ہیں

1

Download Image

رزق کو پاک رکھو ور
لگ
روح باطن نہیں ہوں سکتا

1

Download Image

ہے وہ ہے وہ ا
سے
لیے بھی محبت لگ کر سکا جاناں سے
تمہارا عشق میرا رزق چھین سکتا تھا

1

Download Image

رزق ہے وہ ہے وہ ا
سے کے برکت نینن ہوتی ہے
ج
سے کے گھر ہے وہ ہے وہ آتے ہیں مہمان صدا

1

Download Image

ک
ہاں یکساں نظر ہے ک
ہاں یکسانیت ہے
ہے حاصل سب کسی کو کسی کو رزق بھی کم

1

Download Image

سفر ہے وہ ہے وہ کبھی ایسے منظر بھی آئی
کبھی پھول آئی تو پتھر بھی آئی

میسر نہیں ہوتا آسانی سے رزق
کہ بیماری ہے وہ ہے وہ ہم تو دفترون بھی آئی

0

Download Image

تیری آواز میرا رزق ہوا کرتی تھی
تو مجھے بھوک سے مارے گا یہ سوچا نہیں تھا

38

Download Image

رزق روایتی طور پر ایک اعلیٰ طاقت کی طرف سے فراہم کردہ روزی کو ظاہر کرتا ہے، جو مادی اور روحانی دونوں طرح کی غذا کو شامل کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر زندگی کو برقرار رکھنے والی غیر مرئی قوتوں کی علامت ہوتا ہے، جو محض جسمانی ضروریات سے آگے ایک الہی سخاوت کی نشاندہی کرتا ہے۔

شاعر اکثر قسمت اور الہی ارادے کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے رزق کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ شکر گزاری یا خواہش کے احساس کو بیدار کر سکتا ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ روزی کس طرح پراسرار طریقوں سے آتی ہے۔ رزق انسانی کوشش کے برعکس ہے، جو تقدیر اور کوشش کے درمیان توازن کو اجاگر کرتا ہے۔

رزق الہی عنایت اور انسانی خواہش کے درمیان نازک رقص کو مجسم کرتا ہے۔ یہ وجود کے تانے بانے کو بُننے والے غیر مرئی دھاگوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔