Meaning of

روز و شب

roz–o–shab • रोज़–ओ–शब

دن اور رات; وقت کا بہاؤ

day and night; the passage of time

दिन और रात; समय का प्रवाह

Persian

اک خواب دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ آزاد روز و شب
ہری ہیں وطن کی مری بیٹیاں تمام

0

Download Image

ہوا جو عشق تو حقیقت روز و شب کو بھول گئے
حقیقت اپنے عشق اے نمائش ہے وہ ہے وہ سب کو بھول گئے

کہاں حقیقت دنیا ہے وہ ہے وہ آئی تھے بندگی کے لیے
ملا سکون جہاں ہے وہ ہے وہ تو رب کو بھول گئے

9

Download Image

دل پامال میرا فکر ہے وہ ہے وہ ہے روز و شب یہ سوچتا ہے
دودھ ہے وہ ہے وہ دونوں انگوٹھی کیسے لگیں گے

6

Download Image

ہے وہ ہے وہ دیکھوں روز و شب ب
سے جاناں کو جاناں مسئلہ کیا ہے
جاناں اتنی خوبصورت ہوں تمہارے ساتھ رہنا ہے

6

Download Image

حقیقت جس کا ہم نے روز و شب سجدہ کیا
ا
سے بے وجہ نے ہی تو ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا کیا

3

Download Image

روز و شب دیکھو گریہ و زاری
ہر گھڑی کرتے ہیں اسی غم ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیوں ان
ہوں نے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو ٹھکرایا
جانے ک
سے اجازت کی تھی کمی ہم ہے وہ ہے وہ

1

Download Image

روز و شب کے ہیں مشغلے حیدر
صبح تھامے کہ شام اپنے کو

1

Download Image

روز و شب صبح و شام لیتا ہے
ہر گھڑی میرا نام لیتا ہے

خود کو مشکل ہے وہ ہے وہ مبتلا کر کے
مجھ سے حقیقت انتقام لیتا ہے

1

Download Image

ہوگا دکھ کل اسے منظر کے بدل جانے سے
آج جو خوش ہے دسمبر کے بدل جانے سے

روز و شب روتے ہیں ہم کل بھی ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ رونا ہے
ہم کو کیا فرق کیلنڈر کے بدل جانے سے

1

Download Image

حیات اے بڑھوا تری
یہ روز و شب کٹیںگے کب

0

Download Image

اک خواب دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ آزاد روز و شب
ہری ہیں وطن کی مری بیٹیاں تمام

0

Download Image

ہوا جو عشق تو حقیقت روز و شب کو بھول گئے
حقیقت اپنے عشق اے نمائش ہے وہ ہے وہ سب کو بھول گئے

کہاں حقیقت دنیا ہے وہ ہے وہ آئی تھے بندگی کے لیے
ملا سکون جہاں ہے وہ ہے وہ تو رب کو بھول گئے

9

Download Image

روز و شب دن اور رات کے ابدی چکر کو ظاہر کرتا ہے، جو وقت کے مسلسل بہاؤ کی علامت ہے۔ شاعری میں، یہ زندگی کی مسلسل تال کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ہر دن نئی چیلنجز لاتا ہے اور ہر رات سکون فراہم کرتی ہے۔

شاعر اکثر روز و شب کا استعمال وقت اور وجود کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی کی ناگزیریت، روشنی اور تاریکی کا توازن، یا زندگی کی تسلسل کو ظاہر کر سکتا ہے، چاہے اس کے لمحات عارضی ہوں۔

روز و شب زندگی کی مسلسل حرکت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ہمارے وجود کو متعین کرنے والے چکروں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔