Meaning of

صاحب کشکول

saahib-e-kashkol • साहब-ए-कश्कोल

فقیر; کشکول اٹھانے والا

beggar; one who carries a begging bowl

भिखारी; कटोरा लेकर चलने वाला

Persian

یہ لفظ ایک عاجز طالب علم کی تصویر کو بیدار کرتا ہے، جس نے روحانی دولت کی تلاش میں دنیاوی مال و دولت کو ترک کر دیا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر اندرونی سچائی کی تلاش اور مادیت پرستی کے انکار کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر اس اصطلاح کا استعمال عاجزی، روحانی خواہش، اور مادی دولت اور اندرونی تکمیل کے درمیان تضاد کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ خود شناسی اور روشن خیالی کے سفر کی عکاسی بھی کر سکتا ہے۔

صاحب کشکول مادی دنیا سے پرے معنی کی ابدی تلاش کو مجسم کرتا ہے۔