Meaning of

سامان اضطراب

saamaan-e-iztiraab • सामान-ए-इज़्तिराब

بے چینی کے ذرائع; اضطراب کے آلات

means of agitation; instruments of unrest

व्याकुलता के साधन; अशांति के उपकरण

Persian

یہ فقرہ اندرونی ہلچل اور ان عناصر کا احساس دلاتا ہے جو اس کا سبب بنتے ہیں۔ شاعری میں، یہ اکثر روح کو جھنجھوڑنے والے جذباتی انتشار کی علامت ہوتا ہے، جیسے سمندر کی سکون کو بے چین کرنے والا طوفان۔

شاعر اکثر اس فقرے کا استعمال عاشق یا متلاشی کے اندرونی تصادم کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ذاتی بے چینی کی عکاسی کرنے والے سماجی انتشار کی نمائندگی بھی کر سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'سامان اضطراب' زندگی کی ناگزیر بے چینیوں کے جوہر کو پکڑتا ہے۔