Meaning of

صحراؤں

sahraanv • सहराँव

صحرا; بنجر زمین

deserts; barren lands

रेगिस्तान; बंजर भूमि

Arabic

جو صحراؤں کی حالت پہ یوں ہنستے ہیں
ان کو بھی پانی کی عادت لگ جائے

0

Download Image

تپتے صحراؤں ہے وہ ہے وہ سب کے سر پہ آنچل ہوں گیا تو
ا
سے نے زلفیں کھول دیں اور مسئلہ حل ہوں گیا تو

196

Download Image

تجھے کرنی ہے تو مساوات کر
کہ بہتر ہمارے بھی حالات کر

مٹا دل ہے وہ ہے وہ مشعل جاں یہ صحراؤں کو
خدا اپنے بندوں پہ برسات کر

20

Download Image

اس کا کو صحراؤں ہے وہ ہے وہ پھول لگانے ہیں
زبان چکنی سلیٹ پہ دل بنواننے ہیں

4

Download Image

کبھی صحراؤں ہے وہ ہے وہ بھی بارش ہوں
حقیقت بھی دیکھیں کبھی مجھے چھت سے

3

Download Image

ج
سے کو چھوڑا چھوڑ دیا
اپنی ضد کے پکے ہم

دریاؤں کی بات لگ کر
صحراؤں ہے وہ ہے وہ ڈوبے ہم

3

Download Image

جنگل جنگل بھٹکیں گے اور خود جنگل ہوں جائیں گے
صحراؤں پر اڑنے والا اک بادل ہوں جائیں گے

تنہا چھوڑ کے جانے والے تو نے کیا سوچا تھا ہم
تری ہجر ہے وہ ہے وہ رقص کریںگے اور پاگل ہوں جائیں گے

3

Download Image

جن کو پناہ نہیں ملتی ہے بان
ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
رقص کیا کرتے ہیں حقیقت صحراؤں ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

جو صحراؤں کی حالت پہ یوں ہنستے ہیں
ان کو بھی پانی کی عادت لگ جائے

0

Download Image

تپتے صحراؤں ہے وہ ہے وہ سب کے سر پہ آنچل ہوں گیا تو
ا
سے نے زلفیں کھول دیں اور مسئلہ حل ہوں گیا تو

196

Download Image

یہ لفظ صحراؤں کی وسعت اور تنہائی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر بنجر زمینوں کے درمیان معنی کی لا متناہی تلاش کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر اسے تنہائی اور خود شناسی کے موضوعات کو بیان کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سرسبز مناظر کے برعکس، روح کے سفر کی سختی کو اجاگر کرتا ہے۔

لامتناہی ریت میں، روح کی تنہائی کا عکس ملتا ہے۔