Meaning of
صید بے جاں
said-e-be-jaan • सैद-ए-बे-जाँ
Urdu
بے جان شکار; بے بس شکار
English
lifeless prey; helpless victim
Hindi
निर्जीव शिकार; असहाय शिकार
Origin
Persian
Nuance
یہ فقرہ ایک ایسے شکار کی تصویر پیش کرتا ہے جو اپنی زندگی کی حرارت کھو چکا ہے، بے حس و حرکت اور بے بس پڑا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ایسے شخص کی علامت ہوتا ہے جو حالات سے مغلوب ہو چکا ہے، جس کی فعالیت اور زندگی کی حرارت چھن چکی ہے۔
Poetic Usage
شاعر اس فقرے کا استعمال ان کرداروں کو پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں جو جذباتی یا روحانی طور پر شکست خوردہ ہوتے ہیں۔ یہ طاقت اور زندگی کی حرارت کی تصاویر کے برعکس ہے، کمزوری اور تسلیم کے موضوعات کو اجاگر کرتا ہے۔
Closing Insight
صید بے جاں شکست اور کمزوری کا جوہر پیش کرتا ہے، زندگی کی نازکی کی ایک دلگداز یاد دہانی۔